ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

وادی میں اقتصادی بحرانی صورتحال

وادی کشمیر میں دہائیوں سے نامساعد حالات کی وجہ سے اقتصادی طور بحرانی صورتحال پیدا ہوئی ہے اور ماضی کی طرح غربت اور افلاس ایک بار پھر پلٹ رہی ہے ۔کورناوائرس یایہاں کے حالات نے امیرزادوں کو بھی متاثر کیا ہے تاہم وہ اپنی ٹاٹھ باٹھ باقی رکھے ہوئے ۔لیکن بیروزگاری سے کمزور طبقہ غربت کی چکی میں پس رہا ہے دوسری مہنگائی سے بے شمار مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ اپنے اہل وعیال کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے سے قاصر ہیں اور سماجی حیثیت سے دوسرے کام ان کے لئے بارگراں ثابت ہوتا ہے ۔ اس صورتحال کے بیچ غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی شادیا ں نہیں ہوپارہی ہے ۔اس سلسلے میںمختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سماج کے درددل رکھنے والے ذی حس افراد نے بتایا کہ وادی میں غربت کی وجہ سے لڑکیاں نکاح محروم رہتی ہیں انہوں نے کہا کہ سینکڑوں لڑکیاں افلاس کی وجہ سے شادی کی عمر بھی پار کرچکی ہیں اور ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کئی فلاحی اور سماجی انجمنوں نے بڑے پیمانے پر سرگرمیاں شروع کی ہیں تاہم وہ اپنی حد استطاعت کے مطابق گنتی کے چند لڑکیوں کی شادیوں میں ان کی مالی معاونت کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ذرایعے محدود ہوتے ہیں ۔جبکہ ہزاروں لڑکیاں ایسے غریب گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں جن کی مالی بدحالی کی وجہ سے ان کی شادی نہیں ہوپارہی ہیں اور وہ ہاتھ پیلے ہونے سے قاصر رہتی ہیں ۔اس سلسلے انہوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک لائحہ عمل ترتیب دیکر غریب اور سفید پوس گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کی شادیوں کیلئے فنڈس واگذار کریں تاکہ ان کی زندگیاں ان کیلئے اجیرن نہ بن جائیں گئی ۔انہوں نے سماج میںدرد دل رکھنے والے صاحب ثروت افراد کومالی تعاون دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بساط کے مطابق غریب لڑکیوں کی شادیاں انجام دینے کیلئے ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کریں ۔تاکہ کوئی لڑکی اقتصادی خراب حالت کے باعث زندگی کے اس اہم کام کو انجام دینے سے رہ جائیں گی ۔