سری نگر//19اپنی پارٹی صدر نے جموں وکشمیر کی عوام کو فرقہ وارناہ خطوط پر تقسیم کرنے کے مقصد سے حدبندی کمیشن رپورٹ کو ڈکسن پلان کی تقلید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی پارٹی رپورٹ کو مسترد کرتی ہے کیونکہ اِس نے جموں کشمیر کے دونوں خطوں میں سماج کے سبھی طبقہ جات کو مایوس کیا ہے۔ الطاف بخاری نے پارلیمنٹ میں جموں وکشمیر کی نمائندگی کر رہے پانچ ممبران پارلیمان کے رول پر سوال اْٹھاتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ میں اْن کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ لوگوں کے جذبات اور خواہشات کی نمائندگی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’’اِن اراکین پارلیمان کو پارلیمنٹ سے استعفیٰ دینا چاہئے کیونکہ وہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی نمائندگی کرنے میں نااہل رہے ہیں، اِس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی جماعتوں کی نمائندگی کر رہے ہیں، نہ کہ لوگوں کی‘‘۔اپنی پارٹی صدر ہفتہ کو جموں میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں پارٹی کے دیگر سنیئرلیڈران بھی موجود تھے۔ بخاری نے کہاکہ حد بندی کمیشن نے زمینی سطح پر مشق نہیں کی اور کو مختلف حلقوں میں لوگوں اور اْن کے نمائندگان سے صلاح ومشورہ کئے بغیر منصوبہ کو لوگوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کے مقصد سے لاگو کیا لیکن لوگ اْن کے منصوبہ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اننت ناگ لوک سبھا حلقہ کو راجوری اور پونچھ کے ساتھ ضم کرنے کا لوگوں کے ساتھ نا انصافی کی ایک بڑی مثال ہے۔ کرناہ اسمبلی حلقہ کی غیر منطقی حدبندی کا تذکرہ کرتے ہوئے سوال کیا ’’کیا رائے دہندگان اْن حلقوں میں ووٹ ڈالنے کی غرض سے اْڑنے کے لئے ٹیکسی کا استعمال کریں گے جنہیں جغرافیائی خدوخال ، دشواریوں اور اور طویل مسافت کو نظر انداز کئے بنایاگیاہے؟، یہ علاقہ جات چھ ماہ تک دیگر علاقوں سے منقطع رہتے ہیں، کیسے ایک علاقہ کے لوگ اپنے نمائندے سے ملنے دوسری جگہ دشوار گذار علاقہ عبور کر کے جائیں گے ، کیا یہ ممکن ہے؟۔ سچیت گڑھ حلقہ کو آر آیس پورہ میں ضم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ قومی سلامتی کے ساتھ سمجھوتہ کر کے ایک سیاسی پارٹی کے سیاسی فائیدہ کو ترجیحی دینا سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ یہ حیران کن ہے مگر حقیقت ہے کہ کمیشن ممبران نے پہلگام میں بیٹھ کر ایک ہی دن میں بغیر زمینی مشق کئے 12اسمبلی حلقوں کی رپورٹ مکمل کر لی۔ انہوں نے حد بندی کمیشن ڈرافٹ رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے اِس کو جموں وکشمیر بھر کے ساتھ نا انصافی قرار دیا ہے۔ بی ایس ایف، سی آئی ایس ایف خواہشمندوں کے ساتھ زیادتی اور 60ہزار سے زائد ڈیلی ویجروں کی ریگولر آئزیشن کے مسائل کو حل نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے کئے گئے وعدوں کو جلد سے جلد عملی جامہ پہنایاجائے اور مستحق یومیہ اْجرت ملازمین کو مستقل کیاجائے۔ الطاف بخاری نے کہاکہ’’نوجوانوں کو نظر انداز کر کے اْنہیں پس ِ پشت ڈالنے سے ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جہاں وہ نشہ کے عادی بن رہے ہیں عسکریت پسندی کی طرف مائل ہورہے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ بے روزگاری کے بڑھتے مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کیاجائے‘‘۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے مقامی بیروکریٹس کو اہم عہدوں پر تعینات نہیں کیاجارہا، اگر اْنہیں اہم عہدوں پر تعینات کیاجائے تو وہ لوگوں کے مسائل بہتر ڈھنگ سے حل کرسکتے ہیں البتہ سرکاری محکمہ جات کی کمان غیر مقامی بیروکریٹس کے ہاتھ میں دی گئی ہے۔ مقامی سرکاری افسران کو نظر انداز کر دیاگیاہے ، اس کے علاوہ کاروباری وتاجر طبقہ، مقامی بے روزگارنوجوانوں میں مایوسی ہے۔ حکومت جموں وکشمیر کے دونوں خطوں میں لوگوں کے بڑھتے مسائل کو حل کرنے پر توجہ نہیں دے رہی۔ حکومت میں مقامی افسران کی عدم موجودگی سے جموں وکشمیر کے اندر رشوت نے تمام حدود کو پار کر دیا ہے ، عوامی مسائل حل نہیں ہورہے جس سے اْن میں الگ تھلگ اور تنہائی کا احساس جنم لے رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وطن عزیز کی خاطر جتنی قربانیاں جموں وکشمیر کے لوگوں نے دی ہیں، ملک میں کسی اور نے نہیں دیں۔کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کے حوالے سے الطاف بخاری نے کہاکہ انتخابات میں پوسٹرز اور بینرز استعمال کر کے انتخابات میں کشمیری پنڈتوں کے پوسٹر اور بینرز استعمال کر کے اْن کا سیاسی استحصال کیاگیا لیکن اْن کی بازآبادکاری کے لئے کوئی پختہ اقدامات نہ اْٹھائے گئے۔ قدرتی وسائل کے ٹھیکے غیر مقامی ٹھیکیداروں کو دینے کے حوالے سے الطاف بخاری نے کہاکہ اگر اْن کی جماعت اقتدار میں آئی تو وہ کسی بھی غیر مقامی کو جموں وکشمیر کے قدرتی وسائل تک رسائی کی ہر گز اجازت نہ دیں گے کیونکہ یہ درحقیقت مقامی آبادی کے لئے ہی ہیں۔اس حوالے سے اْن کا کہناتھا’’ہم وسائل پر مقامی آبادی کے حقوق محفوظ کریں گے ، کسی بھی آؤٹ سائڈر کو اجازت نہیں ہوگی‘‘انہوں نے کویڈ19سے پیداشدہ مالی بحرانی صورتحال کے پیش نظر کاروباری طبقہ و تاجروں کے بجلی کرائے کا یکمشت تصفیہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جموں وکشمیر میں کورونا کی تیسری لہر کو پھیلنے سے روکنے کے لئے صحت شعبہ، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی کاؤشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہاکہ جب کویڈ19بندشیں جموں وکشمیر کے بیشتر علاقوں سے ہٹالی گئی ہیں تو مرکزی جامع مسجد سرینگر کو بھی نمازیوں کے لئے کھول دیاجائے۔ سرحدپار سے گھر بار چھوڑ کر یہاں آنے پر مجبور ہوئے افراد ‘Displaced Person’sکو دیئے جانے والے پیکیج کو روک لانے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ حکومت اِس پر نظرثانی کرے اور اْن کے حق میں رقومات واگذار کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ لوگ مالی طور غریب ہیں، اْن کے بقیہ پیکیج کو واگذار کیاجائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ ان کنبہ جات کو ہراساں کرنا بند کریں۔










