cut a walnut tree

وادی کشمیر میں اخروٹ کے درختوں کا صفایا جاری

سرینگر//موجودہ نامساعد حالات کی آڑ میں جنوب و شمال میں صدیوں پُرانے اخروٹ کے درختوں کا صفایا شروع کیا گیا ہے ۔ متعلقہ محکمہ کی جانب سے اگرچہ ایک درخت کو کاٹنے کی اجازت دیتا ہے وہ بھی بوسیدہ درخت کو تاہم ٹھیکدار اس ایک درخت کے ساتھ ساتھ بیس سے تیس درخت کاٹ کر لے جاتے ہیں اور اس کی لکڑی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں ۔وادی کشمیر میں موجودہ نامساعد حالات کی آڑ میں چند خود غرض عناصر کشمیر کی صدیوں پُرانی نشانی اخروٹ کے درخت کو کاٹ کر اس کی لڑکی مکانوں کی پنلنگ اور دیگر اشیاء تیار کرنے کیلئے استعمال کررہے ہیں جس کی انہیں اس کی بھر پور قیمت ملتی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ وادی کشمیر کے شمال و جنوب میں اس وقت نامساعد حالات کے پیش نظراخروٹ کے درختوں کا بڑی بے دردی کے ساتھ صفایا کیا جارہا ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اخروٹ کے بوسیدہ درختوں کو کاٹنے کیلئے سرکاری اجازت نامہ لازمی ہے اور ٹھیکدار ریونیواور محکمہ جنگلات میں کسی جگہ کسی ایک بوسیدہ درخت کو کاٹنے کیلئے منظوری نامہ حاصل کرتے ہیں تاہم اس کی آڑ میں وہ بیس سے تیس درخت کاٹ ڈالتے ہیں کیوں کہ اس وقت اخروٹ کے درختوں کو اچھی خاصی رقم ملتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق اخروٹ کے درختوں کو غیر قانونی طریقے سے کاٹنے میں ٹھیکداروں اور متعلقہ محکمہ جات کے ملازمین کے درمیان ملی بھگت ہوتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں اخروٹ کے درختوں کا صفایا ہورہا ہے ۔ سی این آئی نمائندے امان ملک نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ، قاضی گنڈ، کولگام ، شوپیاں اور پلوامہ میں آج کل اخروٹ کے درختوں کو کاٹنے کا سلسلہ تیز کردیا گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ یہ درخت صدیوں پُرانے ہمارے آباو اجداد نے لگائے تھے جن کا فائدہ آج ہمیں بھی مل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اخروٹ کے درختوں کو دوبارہ بونے کیلئے محکمہ جنگلات کوئی بھی قدم نہیں اُٹھاتا ہے اور آج ہمارے پاس جو درخت موجود ہے ان کی تعداد آئے روز کم ہوتی جارہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب ہم اس قومی نشانی سے محروم ہوجائیں گے ۔