Smart City The dream of installing street lights in different parts of the city is still unfulfilled

سمارٹ سٹی:شہر کے مختلف علاقوں میں سٹریٹ لائٹیں نصب کرنے کا خواب ابھی بھی اُدھورا

سرینگر //سرکار کی جانب سے سرینگر کو سمارٹ سٹی بنانے کے دعوئوں کے بیچ سرینگر میں جو سٹریٹ لائٹس لگائے جانے کا منصوبہ تھا تاہم اس سلسلے میں جو سڑکوں پر لوہے کے پول لگائے جاچکے ہیں ان پر لائٹیں لگائی نہیں جارہی ہے کیوںکہ میونسپلٹی کا دعویٰ ہے کہ محکمہ بجلی لائٹیں چالوں کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ جس کے نتیجے میں یہ سٹریٹ لائٹیں لگانے کا منصوبہ ٹھپ ہوکے رہ گیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت سرینگر کے مختلف علاقوں ، سڑکوں اور چوراہوں پر سرینگر میونسپلٹی کارپوریشن کی جانب سے سٹریٹ لائٹیں لگانے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا اور ان لائٹوں کو نصب کرنے کیلئے پول بھی کھڑا کئے جاچکے ہیں ان پولوں پر چار بڑی لائٹیں نصب کرنے کا منصوبہ تھا جس سے کافی دور تک روشنی پھیلتی ۔ اس کے ساتھ ساتھ ان سٹریٹ لائٹوں سے ضلع کی شان بھی دوبالا بن جاتی تاہم ان سٹریٹ لائٹوں کو نصب کرنے کا کام ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں میونسپلٹی حکام کا کہنا ہے کہ سٹریٹ لائٹیں چالو کرنے کی ہمیں محکمہ بجلی اجازت نہیں دے رہی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ان لائٹوں سے بجلی کی ترسیل پر اضافی بوجھ پڑرہا ہے لھٰذا اس طرح بڑی بڑی لائٹوں کو چالوکرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ دریں اثناء لوگوں نے اس ضمن میں بتایا ہے کہ سرکار اگرچہ شہر سرینگر کو سمارٹ سٹی بنانے کے منصوبے پر عمل کررہی ہے تاہم سرکاری ادارے ہی اس میں روڑے اٹکارہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی اس طرح کی لائٹیں نصب کی جاچکی ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں پر ان لائٹوں کو چالو کرنے کی اجازت اس لئے نہیں دی جارہی ہے کیوں کہ اس پر اضافی بجلی صرف ہوتی ہے ۔ یہاںیہ بات قابل امر ہے کہ سرکار نے سرینگر کو خوبصورت ماڈل شہر بنانے کیلئے منصوبہ بنایا ہے اور اس منصوبہ کو سمارٹ سٹی کے زمرے میں لایا گیا ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں اس طرح کی سمارٹ سٹی قائم کی جاچکی ہیں جہاں پر ہر طرح کی جدید سہولیت دستیاب ہے جن میں لائٹیں ، موبائل اور انٹرنیٹ کی بہتر سہولیات، ماڈرن ایجوکیشن ، رابطہ سڑکوں کی تجدید و مرمت اور شہروں کو جاذب نظر بنانے کیلئے کئی طرح کے کام انجام دئے جارہے ہیں تاہم شہر سرینگر کے سلسلے میں سرکار کی جانب سے اعلان کے باوجود اس طرح کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے ۔