اننت ناگ//جنوبی ضلع اننت ناگ کے مضافاتی گائوں میں آبپاشی کاپانی دستیاب نہ ہونے کے باعث لگ بھگ200کنال زرعی اراضی پر بھنگ اورخشخاش کی کاشت ہورہی ہے ۔مقامی لوگ کہتے ہیں کہ منشیات فصل کی کاشت کرنا باعث شرمندگی ہونے کے باوجودہمارے لئے مجبوری بن گئی ہے۔سیفٹن اننت ناگ کے لوگوں نے آبپاشی نہر کی فوری تعمیرکامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ مقامی نوجوانوں کا منشیات کی لت میں مبتلاء ہونا باعث تشویش ہے ۔جے کے این ایس نمائندے جاویدگل کے مطابق ایک طرف مقامی انتظامہ قابل کاشت اراضی کے تحفظ کے دعوے کر رہی ہے تو وہیں ضلع ہیڈکواٹر اننت ناگ سے محض 2 کلو میٹر کی دوری پر واقع سیفن نامی گاؤں کی 200 کنال زرعی ارضی پچھلیکئی برسوں سے بنجر بنی ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایاکہ کچھ برس قبل تک یہ زمین 100 سے زائدکنبوں کو2 وقت کا کھانا فراہم کرتی تھی مگر ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ آج یہاں بھنگ اور خشخاش کی کاشت کے بغیر کچھ نظر نہیں آتاہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق نہ چاہتے ہوئے بھی بڑے پیمانے پر بھنگ کاشت کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھنگ اورخشخاش کی کاشت کرنے سے نہ صرف مذکورہ گاؤں کا بدنام ہوا ہے بلکہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ آبپاشی نہر کی تعمیر کیلئے اگرچہکئی بار سرکار کی جانب سے وقت وقت پر رقومات کی واگزاری عمل میں لائی گئی تاہم زمینی سطح پر کسی طرح کا کوئی کام ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ لوگوں نے مزید بتایا کہ کئی بار متعلقہ محکمہ اور ضلع انتظامہ کو اس حوالے آگاہ کیا گیالیکن ابھی تک کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ اننت ناگ سے مطالبہ کیا کہ مقامی نوجوانوں کو منشیات اور دیگر بری عادات سینجات دلانے کیلئے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے جائیں۔انہوں نے بنجر ہوئی زرعی اراضی کی بازآبادکاری کیلئے آبپاشی نہر کی تعمیر کا کام جلد سے جلد شروع کرنے کی مانگ کی ۔انہوںنے بتایاکہ پانی دستیاب ہوگاتو مقامی لوگوں اپنے کھیت کھیان سیراب کرپائیں گے اوراُن کوبھنگ یاخشخاش کی کاشت نہیں کرنی پڑے گی۔انہوںنے افسردہ لہجے میں کہاکہ کل تک جوزمین سونا اُگلتی تھی ،اورجہاں چاروں اطراف لہلہاتے کھیت نظرآتے تھے ،آج وہاں منشیات کی فصل نظرآتی ہے ،جو شرمندگی کاموجب ہونے کے باوجود مقامی لوگوں کی ایک مجبوری ہے ،کیونکہ یہاں زیادہ ترلوگ زمینداری پرہی انحصار کرتے ہیں ۔










