نئی دہلی/ایجنسیز// سماج وادی رہنما اعظم خان کو منی لانڈرنگ معاملے میں ای ڈی کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اب سپریم کورٹ سے قانونی راحت کی امید ہے۔ انہوں نے گرفتاری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرکے درخواست دائر کی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی صدارت میں تین رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت پر رضامندی ظاہر کی اور اشارہ دیا کہ اس پر جاریہ ہفتے سماعت ہوسکتی ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ پر اعظم خان کے وکیل نظام پاشا نے فوری سماعت کی درخواست کی۔ تاہم بنچ نے فوری سماعت کی اجازت نہیں دی، البتہ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے کو اسی ہفتے سماعت کیلئے درج کیا جاسکتا ہے۔اس سے قبل اتوار کو اعظم خان کو غازی آباد کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے انہیں 14 دن عدالتی تحویل میں پر بھیج دیا۔ یہ کارروائی محمد علی جوہر ٹرسٹ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں ہوئی۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اعظم خان کو پولیس کی نگرانی میں عدالت لایا گیا ، جبکہ ان کے حامیوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔78 سالہ اعظم خان گزشتہ کئی برسوں سے مختلف قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ای ڈی نے انہیں 31 اکتوبر کو منی لانڈرنگ کے نئے معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاری اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کو مبینہ دو پیان کارڈ کیس میں ضمانت کے بعد رام پور جیل سے رہائی کے فوراً بعد عمل میں آئی ۔ ای ڈی نے اعظم خان اور دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات اتر پردیش پولیس میں درج 58 ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی تھیں۔ ایجنسی ان مقدمات میں درج الزامات کی بنیاد پر منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت تحقیقات کر رہی ہے۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ اعظم خان اور ان کے مبینہ ساتھی مختلف معاملات میں مالی بے ضابطگیوں میں ملوث رہے ہیں۔










