lg

لفٹینٹ گورنر نے جموں و کشمیر یو ٹی فاؤنڈیشن ڈے پر خطاب کیا

آرٹیکل 370 کے خاتمے نے عام شہریوں کو دہشت کے کوخوف سے آزادی اور دہائیوں سے محروم حقوق تک رسائی دی ۔ سنہا

سرینگر//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے جموں و کشمیر کی آٹھویں یو ٹی فاؤنڈیشن ڈے کے موقع پر جموں و کشمیر کے لوگوں کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی سالگرہ پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ۔ اپنے خطاب میں لفٹینٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے شہریوں کو مبارکباد دی اور کسانوں ، اساتذہ ، علماء ، ادیبوں ، فنکاروں ، دستکاروں ، تاجروں ، مزدوروں ، سیکورٹی اہلکاروں ، نوجوانوں اور خواتین کے خوشحال اور خود انحصار جموں و کشمیر کی تعمیر میں کردار کو سراہا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ اس موقع کی خاص اہمیت اس لئے ہے کہ یہ سردار پٹیل کی سالگرہ کے ساتھ ملا ہوا ہے جن کی قومی اتحاد کی بصیرت آج بھی ملک کو انسپائیر کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2019 کے واقعات انضمام ، برابری اور ترقی کی جانب سفر کا ایک اہم باب تھے ۔ انہوں نے کہا ’’ آج محض ایک تاریخ نہیں ، یہ ایک سنگِ میل ہے جس نے تاریخ کی سمت بدل دی اور قومی یکجہتی ، مساوات اور جامع ترقی کے جذبے کو مضبوط کیا ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ آرٹیکل 370 کے خاتمے نے عام شہریوں کو خوف سے آزادی اور دہائیوں سے انکار کئے گئے حقوق تک رسائی دی ۔ جموں و کشمیر امن ، ترقی اور اچھی حکمرانی کا ایک نمونہ بن کر ابھرا ہے ۔ ‘‘ لوگوں کی امنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کا مستقبل امن ، مساوی مواقع اور ترقی سے تشکیل پانا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا ’’ جموں و کشمیر کا مستقبل دہشت گردی کے سائے میں نہیں بلکہ امن کی روشنی میں ہے ۔ یہ امتیاز کی دیواروں کے پیچھے نہیں بلکہ مساوی مواقع میں ہے اور یہ جمود میں نہیں بلکہ ترقی کی رفتار میں ہے ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد دہشت گردی ، علیحدگی پسندی اور پتھراؤ کی جگہ جمہوریت ، ترقی اور عوامی شرکت نے لے لی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا ’’ ہم نے امن خریدا نہیں ، ہم نے امن قائم کیا ۔ زیرو ٹالرنس پالیسی نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو مفلوج کر دیا اور جموں و کشمیر بھر میں عام زندگی بحال کر دی ۔ 2020 سے اب تک 780 سے زیادہ دہشت گردوں کوختم کیا گیا ، مقامی بھرتی ختم ہو گئی اور پتھراؤ بند ہو گیا ۔ اب جموں و کشمیر ایک تاریخی سیکیورٹی تبدیلی کا مشاہدہ کر رہا ہے ۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ ہم نے نارکو دہشت گردی کے کلاف مضبوط کارروائی کی ہے اور یہ کارروائی جاری ہے ۔ہم نے اس سال ہزاروں منشیات اسمگلرز اور منشیات فروشوں کو گرفتار کیا ہے ۔ ان کے غیر قانونی اثاثوں کو منسلک کر لیا گیا ہے اور منشیات کی کمائی سے بنائے گئے محل گرا دئیے گئے ہیں ۔ وہ تنازعہ کے کاروباری افراد جو علیحدگی پسندی اور دہشت گردی سے منافع کماتے تھے ، بے نقاب ہو چکے ہیں ، جموں و کشمیر کے لوگوں نے امن ، ترقی اور قومی انضمام کو قبول کر لیا ہے ۔ ‘‘
لفٹینٹ گورنر نے شہریوں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ ہم آہنگی کو اپنائین ، تنوع کا احترام کریں اور جموں و کشمیر کی ترقی میں فعال طور پر حسہ لیں ۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر کمیونٹیز کی محفوظ اور باعزت واپسی اور سماجی اعتماد کو مضبوط بنانے کیلئے اجتماعی عزم اور تعاون درکار ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کیلئے اپنے وژن کا بھی اشتراک کیا ۔ انہوں نے کہا ’’ میرا خواب ہے کہ 2047 تک جموں و کشمیر جدید معیشت ، عالمی معیار کی صحت کی دیکھ بھال ، بہترین تعلیم اور ایک زندہ دل ثقافتی ورثے کے ساتھ خوشحالی کا ایک ماڈل بن کر ابھرے ۔ ‘‘ قبل ازیں لفٹینٹ گورنر نے ’ یونٹی پلیج ‘ ( اتحاد کا عہد ) دلایا اور ’ رن فار یونٹی ‘ کو پرچم دکھا کر روانہ کیا تا کہ راشٹریہ ایکتا دیوس ( قومی یکجہتی دیوس ) کو منایا جا سکے ۔ اس موقع پر محکمہ اطلاعات کی جانب سے جموں و کشمیر کے تبدیلی کے سفر پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی ۔ جموں و کشمیر یو ٹی فاؤنڈیشن ڈے میں جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چئیر پرسن ، چیف سیکرٹری ، ڈی جی پی ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم ، لفٹینٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ، آئی جی پی کشمیر ، ڈویژنل کمشنر کشمیر ، پولیس ، سیکورٹی فورسز اور سول ایڈمنسٹریشن کے سینئر افسران ، ممتاز شہری ، مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان ، سول سوسائٹی کے اراکین اور بری تعداد میں نوجوان موجود تھے ۔