ناصر اسلم وانی نے جموں و کشمیر میں تعلیمی نطام کو مضبوط بنانے کیلئے سرکاری اور نجی شراکت داری بڑھانے کی اپیل کی

ناصر اسلم وانی نے جموں و کشمیر میں تعلیمی نطام کو مضبوط بنانے کیلئے سرکاری اور نجی شراکت داری بڑھانے کی اپیل کی

نئی دہلی میں 13 ویں اسکول چوائس نیشنل کانفرنس میں شرکت کی

نئی دہلی//وزیر اعلیی کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی نے جموں و کشمیر میں تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان زیادہ تعاون ، وسائل کے معقول استعمال اور مہارت پر مبنی تعلیم پر نئے سرے سے توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ نئی دہلی میں منعقدہ 13 ویں اسکول چوائس نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ صحت اور تعلیم حکومت کی اولین ترجیحات ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ تعلیم صرف علم فراہم کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ نوجوانوں کو مہارتوں سے آراستہ کرے اور انہیں روزگار کے قابل بنائے ۔ جموں و کشمیر کے دور دراز علاقوں میں سرکاری اسکولوں کے وسیع نیٹ ورک کو اجاگر کرتے ہوئے مشیر نے زور دیا کہ صرف فزیکل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کافی نہیں ہے اور انہوں نے انسانی وسائل کی ترقی ، اساتذہ کی تعیناتی میں عقلی انتظام اور اساتذہ و طلباء کے تناسب میں موجود عدم توازن کو دور کرنے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں ڈراپ آؤٹ کی شرح اب بھی تشویش کا باعث ہے ، طلباء کے داخلوں اور انہیں برقرار رکھنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے اجتماعی کوششوں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری اور نجی اسکولوں کو ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہئیے ۔ مسٹر ناصر اسلم وانی نے سرکاری اور نجی اداروں کے درمیان دستیاب انفراسٹرکچر اور وسائل کے اشتراک کا طریقہ کار تیار کرنے کی وکالت کی جس میں اضافی کلاس رومز کے استعمال سمیت موجودہ سہولیات کا بہترین استعمال یقینی بنایا جا سکے اور داخلوں میں اضافہ ہو ۔ قومی تعلیمی پالیسی ( این ای پی ) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مشیر موصوف نے کہا کہ خاص طور پر معاشی طور پر کمزور طبقات کے بچوں کیلئے مہارت پر مبنی اور پیشہ ورانہ تعلیم ضروری ہے تا کہ ان کی روز گار کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے اور انہیں ملازمت کے بازار کیلئے تیار کیا جا سکے ۔ مسٹر ناصر اسلم وانی نے اعتماد کا اظہار کیا کہ مضبوط پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس ، وسائل کے بہتر استعمال اور روز گار کی صلاحیت پر زیادہ توجہ دینے سے جموں و کشمیر میں ایک جامع ، قابلِ رسائی اور پائیدار تعلیمی ماحولیاتی نظام قائم کرنے میں مدد ملے گی ۔