واشنگٹن /ایجنسیز//سابق امریکی نائب صدر کملا ہیریس نے منگل کو ڈیموکریٹک پارٹی پر زور دیا کہ اگر آئندہ ہفتے ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو وہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مواخذہ کی تیسری کوشش نہ کریں۔ ہیریس نے میڈاس ٹچ پلیٹ فارم کے آرون بارناس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ میرے خیال میں مواخذے کی طرف جانا صاف کہوں تو کوئی اچھا خیال نہیں ہے۔انہوں نے دستیاب وسائل کی محدودیت اور اس بات کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا کہ کوششوں کا رخ جواب دہی اور تحقیقات کی جانب موڑا جائے۔انہوں نے مزید کہاکہ یہی وہ شعبہ ہے جس پر وقت صرف کیا جانا چاہیے۔ یاد رکھیں کہ پچھلی کوشش کے دوران میں سینیٹ میں موجود تھی اور مطلوبہ ووٹ دستیاب نہیں ہیں۔ یہ میرا مؤقف ہے، لیکن میرا یہ بھی خیال ہے کہ انتخابات کے بعد ہم سب کو اس بات پر متفق ہونا چاہیے کہ ہمارا ہدف کام مکمل کرنا ہو۔ہیریس نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیموکریٹس کو ایک مضبوط مؤقف اپنانا چاہیے اور ٹرمپ انتظامیہ کو صحتِ عامہ کے اخراجات میں کٹوتی اور ایران کے ساتھ جنگ کی نگرانی کے معاملے پر جواب دہ ٹھہرانے میں ہچکچانا نہیں چاہیے۔ ڈیموکریٹس نے جنوری 2021 میں ٹرمپ کا دوسری بار مواخذہ کیا تھا، جو اسی سال 6 جنوری کو کیپیٹل ہل پر دھاوے کے واقعات کے بعد ہوا اور یہ ہیریس کے نائب صدر کا منصب سنبھالنے کے چند دن بعد کی بات ہے۔فروری 2021 میں سینیٹ نے ٹرمپ کو 57 کے مقابلے میں 43 ووٹوں سے بری کر دیا۔
تمام ڈیموکریٹک ارکان نے انہیں مجرم قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا اور سات ریپبلکن ارکان بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے، لیکن نتیجہ مطلوبہ اکثریت یعنی 67 ووٹوں تک نہ پہنچ سکا۔ڈیموکریٹس نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ اگر وہ آئندہ ہفتے کے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ کے مواخذے کی تیسری کوشش کی جائے۔ نہ ہی انہوں نے انتظامیہ کے اہلکاروں بشمول وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے امکان کو رد کیا ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیت کے رہنما حکیم جیفریز نے گزشتہ ماہ اے بی سی نیوز سے گفتگو میں، ٹرمپ کے خلاف نئی کوشش کے امکان کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا: ہمیں حقائق کی پیروی کرنی چاہیے، قانون کا اطلاق کرنا چاہیے، آئین سے رجوع کرنا چاہیے، اور پھر معاملات کو اس طرح آگے بڑھنے دینا چاہیے جو امریکی عوام کے مفاد میں ہو۔










