تمام قیا س آرائیاں ختم ،عمر عبد اللہ والی سرکار میں کابینہ کی توسیع

تمام قیا س آرائیاں ختم ،عمر عبد اللہ والی سرکار میں کابینہ کی توسیع

لوک بھون سرینگر میں تقریب حلف برداری ،عمر عبداللہ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور دیگر اہم شخصیات کی شرکت

سرینگر / این این بی // تمام قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس سرکارمیں کابینہ کی توسیع ہوئی جس دوران چار نئے وزراءکو شامل کیا گیا جبکہ ایک موجود وزیر کو باہر کیا گیا ۔ تمام نئے وزراءکی تقریب حلف برداری لوک بھون سرینگر میں منعقد ہوئی جہاں لیفٹنٹ گورنر نے انہیں راز داری کاحلف دلایا ۔ نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے چار نئے وزراءکو شامل کیا۔ لوک بھون سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی المعروف کالو کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ کابینہ میں شامل کیے گئے چاروں نئے وزراءکا تعلق وادی کشمیر سے ہے۔حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر، اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سمیت حکمراں اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ متعدد اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔نئے وزرا میں خانیار کے ممبر اسمبلی علی محمد ساگر بھی شامل ہے ۔ عمر عبداللہ کی قیادت والی کابینہ میں اس سے قبل چھ وزراءشامل تھے۔ جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کی مجموعی 90 نشستوں کے تناظر میں مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کابینہ کا حجم اسمبلی کی مجموعی تعداد کے 10 فیصد تک ہو سکتا ہے، جس کے مطابق کابینہ میں زیادہ سے زیادہ نو وزراءکی گنجائش بنتی ہے، اگر اس حد کا اطلاق وزیر اعلیٰ سمیت کونسل آف منسٹرس کی مجموعی تعداد پر کیا جائے۔ادھر ایک سرکاری بیان کے مطابق لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز لوک بھون سرینگر میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران جموں و کشمیر حکومت کی کونسل آف منسٹرز میں شامل کیے گئے چار نئے وزرا ءکو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی موجود تھے۔حلف لینے والے نئے وزراءمیں علی محمد ساگر، الطاف احمد وانی، شمیمہ فردوس اور سیف اللہ میر شامل ہیں۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے چاروں اراکینِ اسمبلی کو وزارت کے عہدے اور رازداری کا حلف دلایا، جس کے ساتھ ہی وہ باضابطہ طور پر جموں و کشمیر حکومت کی کونسل آف منسٹرز کا حصہ بن گئے۔حلف برداری کی تقریب میں جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر عبدالرحیم راتھر، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ، نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری اور کابینہ وزراءسکینہ مسعود ایتو، جاوید احمد رانا اور جاوید احمد ڈار نے شرکت کی۔اس کے علاوہ رکن پارلیمنٹ گوروندر سنگھ اوبرائے سمیت متعدد معزز شخصیات اور اعلیٰ سرکاری افسران بھی تقریب میں موجود تھے۔

کون ہے نئے چار وزیر ؟

(1)علی محمد ساگر
علی محمد ساگر جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک تجربہ کار رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ سابق وزیر اور سات مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے پہلی مرتبہ 1983 میں سرینگر کے بٹہ مالو اسمبلی حلقے سے کامیابی حاصل کی تھی اور 1987 میں بھی اسی نشست پر اپنی کامیابی برقرار رکھی۔ بعد ازاں انہوں نے خانیار اسمبلی حلقے سے انتخاب لڑا اور 1996 میں وہاں سے کامیابی حاصل کی۔نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر نے 2024 کے اسمبلی انتخابات میں خانیار نشست سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے آزاد امیدوار اور سرینگر کے سابق ڈپٹی میئر شیخ عمران کو 9912 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق، وہ اپنے سیاسی کیریئر میں اب تک کوئی اسمبلی انتخاب نہیں ہارے ہیں۔
(2)میر سیف اللہ کو بھی کابینہ میں جگہ ملی
شمالی کشمیر کے سینئر نیشنل کانفرنس رہنما میر سیف اللہ کو بھی کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل کپواڑہ اسمبلی حلقے کی تین مرتبہ نمائندگی کر چکے ہیں۔ حلقہ بندی کے بعد انہوں نے 2024 کے اسمبلی انتخابات میں ترہگام اسمبلی حلقے سے کامیابی حاصل کی۔میر سیف اللہ نے حلف برداری کے بعد عوامی مسائل کو حل کرنے اور جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں لوگوں کی ضروریات پر توجہ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے پارٹی قیادت اور اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کی خدمت اور نیشنل کانفرنس کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔
(3)شمیمہ فردوس دوسری خاتون وزیر بن گئیں
حکومت کی کابینہ میں شامل ہونے والی شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی کے لیے یہ پہلی مرتبہ ہے کہ وہ وزیر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔شمیمہ فردوس نے 2024 کے اسمبلی انتخابات میں سرینگر کے حبہ کدل اسمبلی حلقے سے تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی تھی۔ وہ نیشنل کانفرنس کی خواتین ونگ کی صدر بھی ہیں۔ان کی کابینہ میں شمولیت کے بعد وہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی کونسل آف منسٹرس میں سکینہ مسعود ایتو کے بعد دوسری خاتون وزیر بن گئی ہیں۔
(4) الطاف احمد وانی کی پہلی وزارتی اننگز
پہلگام اسمبلی حلقے کی نمائندگی کرنے والے الطاف احمد وانی، جنہیں کالو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو بھی پہلی مرتبہ وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وہ دو مرتبہ پہلگام اسمبلی حلقے سے منتخب ہو چکے ہیں۔حلف برداری کی تقریب کے دوران علی محمد ساگر نے اردو زبان میں حلف لیا، جبکہ میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی نے انگریزی زبان میں حلف اٹھایا۔