نیویارک/یو این آئی//آئرش وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عالمی رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے اور خبردار کیا کہ جاری تشدد اور بستیوں کی توسیع مستقل امن کے امکانات کو معدوم کر رہی ہے ۔نیویارک میں جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ، مارٹن نے کہا کہ بین الاقوامی قانونی نظام شدید دباؤ میں ہے اور بنیادی انسانی حقوق سے انکار اس دور کا ایک نمایاں چیلنج ہے ۔مارٹن نے کہا کہ” ہم، مشترکہ بین الاقوامی برادری، فلسطین کے لیے ناکام رہے ہیں ، انہوں نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں عام شہریوں کے مسلسل مصائب کی طرف اشارہ کیا۔مارٹن نے کہا کہ گزشتہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے غزہ امن منصوبے کا پہلا مرحلہ خوش آئند تھا، مگر اس نے زمینی حالات میں بنیادی تبدیلی نہیں لائی۔انہوں نے جاری اسرائیلی حملوں، انسانی امداد پر پابندیوں اور شہریوں کے مسلسل مصائب اور کرب پر زور دیا۔انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی بھی مذمت کی اور کہا کہ وہاں کی پیش رفت ایک منصفانہ اور دیرپا امن کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ”جو ہم میدان میں دیکھ رہے ہیں وہ بعض لوگوں کی دانستہ طور پر دو ریاستی حل کے امکان کو ناممکن بنا نے کی چالیں ہیں ، انہوں نے ان بیانات کا حوالہ دیا جو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دیے تھے اور جو فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف ہیں، جبکہ اسرائیل نے E1 علاقے میں تعمیراتی منظوری دی ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اسی طرح خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں دیگر پیش رفتیں ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے لیے درکار ماحول کو ختم کر رہی ہیں۔










