لفٹینٹ گورنر نے سردار پٹیل کی جموں کشمیر کی میراث پر کتاب کا اجراء کیا

لفٹینٹ گورنر نے سردار پٹیل کی جموں کشمیر کی میراث پر کتاب کا اجراء کیا

سردار پٹیل کا متحدہ ہندوستان کا خواب زندہ ہے اور آج یہ پہلے سے زیادہ روشن ہے ۔ لفٹینٹ گورنر

سرینگر//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج ایک کتاب ’’ سردار پٹیل اینڈ کشمیر : دی ان ٹولڈ ہسٹری ‘‘ کا اجراء کیا ۔ انہوں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی دور اندیشی اور قوم سازی کی صلاحیت کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور بھگوان شری سوامی نارائن جی کا شکریہ ادا کیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے منی نگر شری سوامی نارائن گدی سنستھان کے روحانی عروج ، تعلیم اور انسانی خدمت میں بے مثال تعاون کی تعریف کی ۔ انہوں نے ڈاکٹر رضوان قادری کو اس اہم کام کی تدوین اور اشاعت پر بھی مبارکباد دی ۔ لفٹینٹ گورنر نے اپنے خطاب میں سردار پٹیل کو ’’ جدید ہندوستان کا معمار ‘‘ قرار دیا جن کی ناقابلِ تسخیر خواہش اور عملی حکمت نے 562 ریاستوں کو ایک متحد ملک میں ضم کر دیا ۔ انہوں نے زور دیا کہ سردار پٹیل کا ’’ ایک بھارت شریشٹھ بھارت ‘‘ کا ویژن آج بھی ہندوستان کی جمہوریت اور وحدت میں تنوع کے جوہر کی تعریف کرتا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے بارے میں سردار پٹیل کے پختہ موقف کو یاد کیا اور ان کے اس اعلان کا ذکر کیا کہ ’’ ہم جموں و کشمیر کی ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دیں گے ‘‘ انہوں نے سردار پٹیل کی قوم کے نبض کی گہری سمجھ اور عام لوگوں ، مزدوروں اور ہندوستان بھر کی کمیونٹیز سے جُڑنے کی صلاحیت پر غور کیا ۔ انہوں نے کہا ’’ اپنی ناقابلِ تسخیر قوت ارادی ، واضح ویژن ، بے لوث محنت اور مہارت سے بھر پور تنظیمی طاقت کے ذریعے انہوں نے ناقابلِ تقسیم ہندوستان کے خواب کو حقیقت بنا دیا ۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ اگر جموں و کشمیر کہ ذمہ داری سردار پٹیل کو دی جاتی تو شائد وہ مسائل پیدا نہ ہوتے جو یہاں کے لوگوں نے چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک برداشت کئے ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اسے تاریخ کا ایمانداری اور غیر جانبداری کے ساتھ دوبارہ جائیزہ لینے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا ۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ طویل عرصے تک تاریخی بیانیئے نظریاتی تعصبات کے زیر تشکیل پاتے رہے جن میں سردار پٹیل جیسے رہنماؤں کے فیصلہ کن کردار کو نظر انداز کیا گیا ۔ انہوں نے نئی نسل کے مصنفین سے اپیل کی کہ وہ تاریخ کو حقیقت کا آئینہ سمجھیں نہ کہ تعریف و توصیف کا آلہ اور ماضی کے فیصلوں سے سیکھ کر مستقبل کی رہنمائی کریں ۔ انہوں نے اگست 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کو سردار پٹیل کے ادھورے خواب کی تکمیل قرار دیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ یہ آئینی تبدیلی صرف قانونی نہیں بلکہ نفسیاتی اور جذباتی انضمام کی جانب ایک گہرا قدم تھا جو جموں و کشمیر کے تمام طبقات کیلئے برابر کے حقوق اور مواقع کو یقینی بناتا ہے ۔ کتاب کی اجراء کی تقریب میں آچاریہ شری جیتیندریہ پریا داس جی سوامی جی مہاراج ، شری کشور مکوانہ ، چئیر پرسن نیشنل کمیشن فار شیڈولڈ کاسٹس ، ڈاکٹر رضوان قادری ، سوامی بھگوت پریا داس جی ، پرنسپل سیکرٹری کلچر ڈیپارٹمنٹ ، سینئر افسران ، ممتاز ادبی شخصیات اور منی نگر شری سوامی نارائن گدی سنستھان کے عہدیداران نے شرکت کی ۔