لفٹینٹ گورنر نے جموں یونیورسٹی میں نئی سہولت کا افتتاح کیا

اے آئی کے دور میں طلبہ کو تاحیات سیکھنے ، تخلیقیت ، ہمدردی اور اقدار کو اپنانا چاہئیے ۔ لفٹینٹ گورنر

جموں //لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے جموں یونیورسٹی میں متعدد نئی سہولیات کا افتتاح کیا ۔ اس افتتاح میں ایک جدید اسپورٹس کمپلیکس ، شوٹنگ رینج ، کرکٹ اسٹیڈیم کیلئے ہائی ماسٹ لائٹس اور توی گیسٹ ہاوس کمپلیکس شامل ہیں جن پر تقریباً 10 کروڑ روپے کی لاگت آئی ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ یہ سہولیات یونیورسٹی کے کھلاڑیوں ، اسکالرز اور زائرین کو بااختیار بنائیں گی اور مرکزی علاقے میں اسے ایک بہترین مرکز کے طور پر مضبوط کریں گی ۔ لفٹینٹ گورنر نے وائس چانسلراور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مبارکباد دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ بنیادی ڈھانچہ اہم ہے ، لیکن کسی ادارے کی حقیقی تبدیلی اس کی دیواروں کے اندر پروان چڑھنے والی اقدامار ، نظریات اور ایجادات میں پنہاں ہوتی ہے ۔ انہوں نے سامعین کو یاد دلایا کہ ہر نسل تبدیلی کا سامنا کرتی ہے لیکن موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے تبدیلی کی شدت بے مثال ہے ۔ اپنے خطاب میں لفٹینٹ گورنر نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیم یافتہ ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طاقت کے بارے میں عالمی خدشات کا ذکر کیا اور ماہرین کے حوالے دئیے ۔ انہوں نے خبر دار کیا کہ مصنوعی ذہانت ایک ’’ چوگنا استعمال ‘‘ والی ٹیکنالوجی کے طور پر خود مختار طریقے سے کام کر سکتی ہے جو فائدہ مند اور نقصان دہ دونوں نتائج پیدا کر سکتی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو انسانیت کا خادم ہی رہنا چاہئیے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انسانی وقار ، روز گار ، صحت اور آزادی کو بڑھاوا دینے والے فیصلے ہمیشہ ذمہ دار انسانوں کو کرنے چاہئیں مشینوں کو نہیں ۔ انہوں نے کہا ’’ جس دن ٹیکنالوجی انسانیت کی آقا بن جائے گی اس دن ہمارے اصل وجود کو خطرہ لاحق ہو جائے گا ۔ مشینیں حساب لگا سکتی ہیں لین وہ محسوس نہیں کر سکتیں ۔ مشینیں پیشن گوئی کر سکتی ہیں لیکن وہ فیصلوں کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتیں ۔ مشینیں ہمدردی کی زبان کی نقل کر سکتی ہیں لیکن وہ آدھی رات کو مریض کے بستر کے پاس نہیں کھڑی ہوتیں اور نہ ہی کسی جج کے فیصلے کا اخلاقی بوجھ اتھاتی ہیں ۔ میرا واضح نقطہ نظر یہ ہے کہ ہر وہ فیصلہ جو کسی شخص کی آزادی ، روزی روٹی ، صحت ، تعلیم یا وقار کو گہرائی سے متاثر کرتا ہے اس کے پیچھے ایک انسان ہونا چاہئیے جو اس فیصلے کو سمجھتا ہو اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہو اور اسے جوابدہ ٹھہرایا جا سکے ۔ ‘‘
لفٹینٹ گورنر نے اعلیٰ تعلیم کیلئے پانچ اہم چیلنجز بیان کئے ۔ انہوں نے کہا کہ توجہ مطابقت پر ہونی چاہئیے اور نصاب کو تبدیلی کی رفتار کے مطابق تیزی سے ڈھالنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ رٹا لگانے سے گریز کرنا چاہئیے اور کلاس رومز میں حفظ کے بجائے اطلاق اور مقصد پر توجہ دینی چاہئیے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طلباء کو اصل جوابات دینے چاہئیں تجسس اور استدلال کو ترجیح دینی چاہئیے اور ٹیکنالوجی کو دیہی اور شہری سیکھنے والوں کے درمیان فاصلہ نہیں بڑھانا چاہئیے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ یہ سچ ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی استاد کی جگہ نہیں لے سکتی لیکن یہ بھی اتنا ہی سچ ہے کہ ٹیکنالوجی ضرور استاد کے کردار کو بدل دے گی ۔ مستقبل کا استاد صرف معلومات دینے والا نہیں ہو گا وہ ایک رہنما ، ایک گرو ، ایک سوال کرنے والا اور ایک ایسی متاثر کُن شخصیت ہو گا جو طلباء میں تجسس کو جگا دے اور ان کے کردار کی تعمیر کرے ۔ ‘‘ طلباء اور اساتذہ کیلئے لفٹینٹ گورنر نے چھ رہنما پیغامات دئیے ، تاحیات سیکھنے کو اپنائیں ، تخلیقی صلاحیت اور ہمدردی جیسی منفرد انسانی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں ، مختلف شعبوں کے درمیان رابطے کو بڑھائیں ، قومی ترقی میں حصہ ڈالیں ، تعلیم اور کھیل کے درمیان توازن رکھیں اور روایات و اقدار میں جڑے رہیں ۔ انہوں نے طلباء سے کہا کہ وہ سائینس اور سنسکار دونوں کے مجسم بن جائیں ۔ افتتاحی تقریب میں جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر ، ڈویژنل کمشنر جموں ، آئی جی پی جموں ، ڈی آئی جی جے ایس کے رینج ، ڈپٹی کمشنر جموں ، ڈین اکیڈمک افئیرز ، ڈین ریسرچ اسٹڈیز م ڈین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ، رجسٹرار ، شعبوں کے سربراہ فیکلٹی ممبران اور طلباء نے شرکت کی ۔