ہر سیاحتی مقام کو گلمرگ جیسا نہیں بنایا جاسکتا او رہر جگہ گنڈولہ نہیں لگائے جاسکتے ۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ

ہر سیاحتی مقام کو گلمرگ جیسا نہیں بنایا جاسکتا او رہر جگہ گنڈولہ نہیں لگائے جاسکتے ۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ

ہر سیاحتی مقام کی اَپنی منفرد کشش ہوتی ہے اور دودھ پتھری گنڈولہ کی تجویز زیر غور ہے

سری نگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت ہر سیاحتی مقام کو گلمرگ ماڈل جیسا نہیں بنا سکتی ۔اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں ہر مقام کی منفرد خصوصیات، دِلچسپیاں اور سیاحوں کی آمد کی صلاحیت کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔وزیراعلیٰ جن کے پاس سیاحت کا قلمدان بھی ہے ، نے آج ایوان میں ممبراسمبلی سیف الدین بٹ کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو تمام سیاحتی مقامات پر ایک ہی قسم کا بنیادی ڈھانچہ بنانے کے بجائے ہر مقام کی خصوصیات کے مطابق حکمت عملی اَپنانی چاہیے۔اُنہوں نے کہا، ’’ہم ہر سیاحتی مقام کو گلمرگ جیسا نہیں بنا سکتے اور نہ ہی ہر جگہ گنڈولہ لگا سکتے۔ہر سیاحتی مقام کی اَپنی منفرد اور الگ کشش ہوتی ہے۔‘‘وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ گلمرگ میں گنڈولہ رائیڈرز کی تعداد پتنی ٹاپ والے گنڈولہ سے کہیں زیادہ ہے اور ایسے عوامل کو دوسرے مقامات پر اسی طرح کا ڈھانچہ تجویز کرنے سے پہلے دیکھنا ضروری ہے۔اُنہوں نے مزید کہا،’’ہر سیاحتی مقام پر گنڈولہ نہیں ہو سکتا۔ ہر مقام گلمرگ نہیں بن سکتا۔ ہمیں کچھ منفرد دیکھنا ہوگاکیوں کہ یہ مقامات اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہیں۔‘‘وزیر اعلیٰ نے دودھ پتھری میں مجوزہ گنڈولہ /کیبل کار منصوبے کے بارے میں ایوان کو مطلع کیا کہ یہ تجویز فی الحال حکومت کے زیرغور ہے۔ منصوبے پر عمل درآمد متعلقہ اتھارٹی کی منظوری، ضروری کارروائی کی تکمیل اور فنڈز کی دستیابی کے بعد ہی شروع ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ دودھ پتھری میں سرمائی مہم جو سیاحت کو پہلے ہی فروغ مل چکا ہے، محکمہ سیاحت نے 2023 میں یہاں سنوسکیئنگ متعارف کیا جو بعد کے سرمائی موسموں میں بھی اسے باقاعدگی سے جاری رکھا۔
وزیرِ اعلیٰ نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ حکومت دودھ پتھری کے آس پاس بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بند ترقی پر کام کر رہی ہے تاکہ سیاحوں کے اِنتظام کو بہتر بنایا جاسکے اور اس مقام پر دبائو کو کم کیا جاسکے۔ محکمہ سیاحت نے اریگام ۔ریار اِچ کے راستے پرپانچ مقامات پر ریاستی اراضی کی نشاندہی کی ہے جہاں سیاحوں اور مقامی وینڈروں کے لئے راستے کی سہولیات تعمیر کی جائیں گی۔ ان سہولیات کے لئے انتظامی منظوری تقریباً 50 لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت پر دی جا چکی ہے اور کام فی الحال ٹینڈرنگ کے مرحلے میں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ کرال پتھری میں شیپ فارم کے قریب تقریباً 25 کنال ریاستی اراضی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں دودھ پتھری میں ایک ٹورسٹ ٹرانزٹ ہب کے ساتھ 400 گاڑیوں کی پارکنگ کی سہولیت تعمیر کی جائے گی۔ مجوزہ سہولیت کے لئے 75 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے ’’سودیش درشن سکیم 2.0 ‘‘کے تحت تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) تیار کر کے غور و منظوری کے لئے مرکزی وزارت محکمہ سیاحت کو پیش کردی گئی ہے۔ مجوزہ ٹرانزٹ ہب اور پارکنگ سہولیت کا مقصد دودھ پتھری میں گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم کرنا اور سیاحوںکے انتظام کو بہتر بنانا ہے جس سے اس مقام پر گاڑیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔وزیراعلیٰ نے خانصاحب میں سیاحتی ترقی کے حوالے سے کہا کہ محکمہ سیاحت مستقبل کی ترقی کے لئے سیاحتی صلاحیت رکھنے والے علاقوں کی نشاندہی اور تشخیص کا عمل پہلے ہی شروع کر چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ نے مقامی شراکت داروںاور ریونیو و محکمہ جنگلات کے اَفسران کے مشورے سے پوشکر، شوپلیان، نوگام، ڈرنگ، ہبر، بنگلہ پتھری اور پالماسِدان کے مقامات کا دورہ کیا ہے تاکہ ان کی سیاحتی صلاحیت اور سیاحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔مستقبل کے سیاحتی ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرنے کے لئے موزوں مقامات پر غور کیا جائے گاجس کا انحصار ان کی سیاحتی صلاحیت اور امکانات، مناسب اراضی کی دستیابی اور ضروری قانونی و انتظامی تقاضوں کی تکمیل پر ہوگا۔بنگلہ پتھری اور زوگو سے سیتا ہرن تک کے علاقے میں ریاستی اراضی کی نشاندہی، حد بندی اور منتقلی کا عمل محکمہ مال کے ساتھ پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے اور مزید ضروری کارروائی کے لئے زیرِ عمل ہے۔