amit shah

’قربانی اور غیر متزلزل عزم کی مثال‘: وزیر داخلہ کی وزیر اعظم کو 76ویں سالگرہ پر مبارکباد دی:امیت شاہ

سرینگر / این این بی // دہشت گردی کے خلاف حکومتی پالیسی واضح ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ملک نے پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی کو عملی طور پر نافذ ہوتے دیکھا۔ انہوں نے دفعہ 370 کا خاتمہ، سرجیکل اسٹرائیکس، فضائی حملوں اور آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بھارت اب صرف دہشت گردی کی مذمت نہیں کرتا بلکہ اس کا فیصلہ کن جواب بھی دیتا ہے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کی 76ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی 25 سالہ عوامی زندگی اور قومی خدمت کو سراہا اور کہا کہ وزیر اعظم کا سفر قربانی، قومی خدمت اور غیر متزلزل عزم کی مثال ہے۔امیت شاہ نے کہا کہ نریندر مودی کی زندگی انتھک محنت، قربانی اور دوراندیشی کی علامت ہے۔ ان کے مطابق مودی نے ’کرم‘ کو اپنی ’سادھنا‘ اور قومی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا، جس کے باعث ان کا سفر ریاضت، قربانی اور غیر متزلزل عزم کی ایک طویل داستان بن گیا ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم کا خدمت اور لگن سے بھرپور سفر ملک کے کروڑوں شہریوں کے لیے تحریک کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ وزیر اعظم طویل عمر اور اچھی صحت کے ساتھ ملک کی قیادت کرتے رہیں اور بھارت 2047 تک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہدف کی جانب مسلسل آگے بڑھے۔امیت شاہ نے کہا کہ ایک عام رضاکار کی حیثیت سے عوامی زندگی کا آغاز کرنے سے لے کر گجرات کے وزیر اعلیٰ اور پھر ملک کے وزیر اعظم کے منصب تک پہنچنے کا مودی کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ اگر زندگی کا مقصد قومی خدمت ہو تو مشکل سے مشکل عزم بھی پورا کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی نے اقتدار کو کبھی محض ایک مقصد کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے غریبوں کی فلاح و بہبود اور ملک کی تعمیر کا ذریعہ سمجھا۔ شاہ کے مطابق مودی کے ساتھ مختلف ذمہ داریوں میں کام کرنے والے کارکنوں کے لیے یہ ایک موقع رہا ہے کہ وہ ان کی قیادت اور طرزِ حکمرانی کو قریب سے دیکھ سکیں۔امیت شاہ نے وزیر اعظم کی قیادت کی ایک نمایاں خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے آخری فرد کو ہمیشہ ان کی حکمرانی کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی غریب ماں اپنے پکے مکان کے دروازے پر کھڑے ہوکر دعائیں دیتی ہے یا کوئی خاتون بتاتی ہے کہ آیوشمان کارڈ نے اس کے خاندان کی مدد کی، تو ایسی مثالوں سے سرکاری فلاحی اسکیموں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ نے خواتین اور نوجوانوں سے متعلق مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تین طلاق کے خاتمے اور ناری شکتی وندن ادھینیم نے خواتین میں نئے اعتماد کو فروغ دیا، جبکہ اسٹارٹ اپ انڈیا، اسکل انڈیا اور نئی تعلیمی پالیسی نے نوجوانوں کے لیے مواقع کے نئے دروازے کھولے ہیں۔شاہ نے کہا کہ کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی وزیر اعظم مودی کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے ان علاقوں میں بھی عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ قائم ہوا ہے جہاں پہلے ’ترقی‘ کا لفظ بھی زیرِ بحث نہیں آتا تھا۔مرکزی وزیر داخلہ نے ملک کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی پیش رفت کی مثال دیتے ہوئے کشمیر میں واقع چناب ریلوے پل، شمال مشرقی خطے میں سڑکوں اور پلوں کے وسیع نیٹ ورک، وندے بھارت ٹرینوں اور سیمی کنڈکٹر یونٹ کا ذکر کیا اور انہیں ’نئے بھارت‘ کی علامت قرار دیا۔امیت شاہ نے ملکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، جسے کبھی دنیا کی ’فریجائل فائیو‘ معیشتوں میں شمار کیا جاتا تھا، آج بڑی عالمی معیشتوں میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے۔ انہوں نے بھارتی پاسپورٹ کے حوالے سے بھی کہا کہ اب اسے عالمی سطح پر احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 36 ممالک کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو دیے گئے اعلیٰ ترین اعزاز دراصل تمام بھارتی شہریوں کے لیے اعزاز کی حیثیت رکھتے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف حکومتی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ملک نے پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی کو عملی طور پر نافذ ہوتے دیکھا۔ انہوں نے دفعہ 370 کا خاتمہ، سرجیکل اسٹرائیکس، فضائی حملوں اور آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ بھارت اب صرف دہشت گردی کی مذمت نہیں کرتا بلکہ اس کا فیصلہ کن جواب بھی دیتا ہے۔شاہ نے دعویٰ کیا کہ ملک میں نکسل ازم کا خاتمہ کیا گیا، شمال مشرق میں کئی دہائیوں پرانے تنازعات کو امن معاہدوں کے ذریعے حل کیا گیا اور سرحدوں کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک محفوظ بھارت خوشحال بھارت کے لیے بنیادی ضرورت ہے اور وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ملک نے اس سمت میں پیش رفت کی ہے۔