سکینہ اِیتو نے پانپور میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اِفتتاح کیا

سکینہ اِیتو نے پانپور میں متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اِفتتاح کیا

پانپور//وزیربرائے تعلیم، سماجی بہبود اور صحت و طبی تعلیم محکمہ جات سکینہ اِیتو نے پانپور حلقہ اِنتخاب کا دورہ کیا اور تعلیمی، صحت اور عوامی خدمات کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے مقصد سے متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اِفتتاح کیا۔وزیرموصوفہ کے ہمراہ ممبر قانون ساز اسمبلی پانپورجسٹس (ریٹائرڈ) حسنین مسعودی، رُکن اسمبلی ترال رفیق احمد نائیک،ممبر اسمبلی پلوامہ وحید الرحمان پرہ اور ایم ایل اے راجپورہ غلام محی الدین میربھی تھے۔دن کے اوائل میں وزیر سکینہ اِیتو نے پانپور میں ڈِسٹرکٹ اِنسٹی چیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ڈِی آئی اِی ٹی) پلوامہ کی مرکزی عمارت کا اِفتتاح کیا۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ اساتذہ کی تعلیم، تربیت اور صلاحیت سازی کے لئے بہتر سہولیات فراہم کرے گا۔اِس موقعہ پر اُنہوں نے کہا کہ اَساتذہ کی تربیت کے لئے مختص اِداروں کو مضبوط بنانا سکول کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور اساتذہ کو اُبھرتی ہوئی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے درکار علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔وزیر موصوفہ نے کہا کہ حکومت تعلیمی شعبے کو جدید بنانے اور طلبأ، اَساتذہ اور دیگر متعلقین کے لئے بہتر اِدارہ جاتی سہولیات پیدا کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔اُنہوں نے کہاکہ تعلیمی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، اَساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کے ساتھ مل کر ایک فعال اور مستقبل کے لئے تیار تعلیمی نظام کی تعمیر کے لئے اہم ہے۔اِس موقعہ پر اُنہوںنے 17 سی پی ڈبلیوز کو ریگولرائزیشن آرڈر بھی تقسیم کئے۔ اُنہوں نے اس اَقدام کو متعلقہ کارکنوں کی بہبود اور پیشہ ورانہ تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور سماجی بہبود کے نظام کو مضبوط بنانے اور اس شعبے میں کام کرنے والے عملے کی معاونت کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کے عزم کو اُجاگر کیا۔عدمیں سکینہ اِیتو نے ہمراہ موجود ایم ایل ایز کے ساتھ مل کر گورنمنٹ ڈِگری کالج (جی ڈِی سی) پانپور میں سائنس لیبارٹری بلاک کا اِفتتاح کیا۔اُنہوں نے جی ڈِی سی پانپور کے آڈیٹوریم میں اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالج محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک ایسا ادارہ ہے جو نوجوانوں کی ذہنی، سماجی اور پیشہ ورانہ نشوونما کو تشکیل دیتا ہے۔ اُنہوں نے اعلیٰ تعلیم کو طلبأ کی بدلتی ہوئی اُمنگوں اور روزگار کے منظرنامے کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر موصوفہ نے جی ڈی سی پانپور میں داخلوں میں سال بہ سال اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے ادارے کو مضبوط بنانے اور سازگار تعلیمی ماحول پیدا کرنے کی کوششوں پر کالج کے اساتذہ اور عملے کو سراہا۔اُنہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے داخلے مقامی سطح پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں طالب علموں کی بڑھتی دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔اُنہوںنے مزید کہا کہ طالب علموں میں کافی صلاحیت اور قابلیت موجود ہے اور ایک ایسے مہارت پر مبنی اور جدت طرازی سے بھرپور نصاب کی ضرورت پر زور دیا جو انہیں علمی تعلیم کو عملی صلاحیتوں میں بدلنے کے قابل بنائے۔ اُنہوں نے کیمپس کے محفوظ، آرام دہ اور جامع ماحول کی تشکیل کے لئے مسلسل کوششوں پر بھی زور دیا تاکہ طلبأ اعتماد کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔وزیر تعلیم نے کالج انتظامیہ سے کہا کہ وہ نصاب کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں، جدت طرازی اور ہنر مندی کی حوصلہ افزائی جاری رکھیں تاکہ طلبأ اعلیٰ تعلیم، کاروبار اور روزگار کے مواقع کے لئے بہتر طور پر تیار ہو سکیں۔اُنہوںنے کالج کے ششماہی نیوز لیٹر ’’شاخِ زعفران‘‘ کا دوسرا شمارہ بھی جاری کیا اور گورنمنٹ ڈِگری کالج پانپور کی پرنسپل ڈاکٹر غزالہ غیاث کی تصنیف کردہ نظموں کے مجموعے کی رسم رونمائی بھی اَنجام دِی۔بعد میں وزیر موصوفہ نے پانپور کے منڈک پال اور شاری شالی میں نئے طرز کے پرائمری ہیلتھ سینٹرز (این ٹی پی ایچ سیز) کا دورہ اور اِفتتاح کیا۔ اُنہوں نے نئے اِفتتاح شدہ صحت اِداروں میں دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا اور مقامی آبادی کو صحت خدمات کی فراہمی کے لئے کئے جانے والے اِنتظامات کا بھی جائزہ لیا۔دورے کے دوران وزیر کے ہمراہ ڈائریکٹر کالجز جموں و کشمیر، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اونتی پورہ،جوائنٹ ڈائریکٹر ایس سی ای آر ٹی، چیف ایجوکیشن آفیسر پلوامہ، چیف میڈیکل آفیسر پلوامہ، ڈِسٹرکٹ سوشل ویلفیئر آفیسر پلوامہ اور تحصیل دار پانپور سمیت دیگر افسران و اہلکار موجود تھے۔