dooran

کشمیری پنڈت ملازمین کے سکیورٹی خدشات

مرکزی حکومت سے مداخلت کی اپیل کی

سری نگر//یواین ایس/ کشمیر وادی میں وزیر اعظم پیکیج کے تحت سرکاری ملازمتیں انجام دینے والے کشمیری پنڈت ملازمین نے سکیورٹی خدشات اور بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے احساس کے پیش نظر مرکزی حکومت سے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ ملازمین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ صورتحال پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو انہیں ایک بار پھر نقل مکانی کے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔آل پی ایم پیکیج ایمپلائز فورم کے صدر سنی رینا نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے نام ایک خط میں وادی کشمیر میں مقیم اور کام کرنے والے کشمیری ہندو ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو درپیش سکیورٹی خدشات اور خوف و غیر یقینی کی صورتحال کو اجاگر کیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ کشمیری پنڈت گزشتہ کئی برسوں سے کشمیر میں دوبارہ آباد ہونے کی سنجیدہ لیکن انتہائی مشکل کوشش کر رہے ہیں، تاہم 2021 کے بعد شہریوں اور کشمیری ہندوؤں کو نشانہ بنا کر کیے گئے بعض حملوں اور ہلاکتوں نے خاندانوں میں گہرا خوف پیدا کیا ہے۔ملازمین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا ہر واقعہ 1990 کی دہائی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کردیتا ہے اور یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیری ہندو خاندان ایک بار پھر اپنے آبائی وطن سے نقل مکانی پر مجبور ہوسکتے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ بظاہر حالات معمول کے مطابق دکھائی دے سکتے ہیں، تاہم زمینی سطح پر بے چینی اور تناؤ کا احساس اب بھی موجود ہے۔ متعدد خاندان اپنی سلامتی اور اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔سنی رینا نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ ان کی مکمل سماجی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کا عمل ان کی توقعات کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکا۔ ملازمین کشمیر میں اپنی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن موجودہ غیر یقینی ماحول اس عمل کو مشکل بنا رہا ہے۔ملازمین نے حالیہ عرصے میں دھمکی آمیز خطوط اور ڈرانے دھمکانے کے واقعات میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان واقعات کو الگ تھلگ واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔خط میں مرکزی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کشمیری ہندوؤں اور وزیر اعظم پیکیج کے ملازمین کو موصول ہونے والے حالیہ دھمکی آمیز خطوط اور پیغامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔ ملازمین نے دھمکیاں دینے، خوف و ہراس پھیلانے یا تشدد پر اکسانے کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ملازمین نے وزیر داخلہ سے وزیر اعظم پیکیج کے ملازمین، ان کے اہل خانہ اور رہائشی کالونیوں کے اطراف خفیہ معلومات جمع کرنے کے نظام اور حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے تمام رہائشی مراکز اور رہائش گاہوں کا جامع سکیورٹی جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ مرکزی وزارت داخلہ ایسا مؤثر نظام قائم کرے جس کے ذریعے وزیر اعظم پیکیج کے ملازمین فوری طور پر کسی بھی دھمکی کی اطلاع دے سکیں اور انہیں بروقت تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ ساتھ ہی دھمکیوں اور خوف و ہراس کے کسی بھی ابھرتے ہوئے رجحان پر مسلسل نظر رکھی جائے تاکہ صورتحال دوبارہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی طرف نہ بڑھے۔کشمیری پنڈت ملازمین نے واضح کیا کہ ان کی اپیل کا مقصد وادی چھوڑنا نہیں بلکہ کشمیر میں رہنا اور اپنے مستقبل کو دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 برسوں سے وہ کئی دہائیوں قبل تباہ ہونے والی اپنی زندگیوں کو دوبارہ سنوارنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ ایک اور نقل مکانی نہیں چاہتے۔انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر میں رہنا، یہاں کام کرنا اور عزت و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ ملازمین نے مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیری ہندوؤں کی بازآبادکاری اور سلامتی کے عزم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ خوف کے ماحول کو مزید سنگین ہونے سے پہلے فوری، واضح اور عملی اقدامات کی اپیل کی ہے۔