محکمہ اسکولی تعلیم نے انکوائری کا حکم دیا،سہ رکنی ٹیم تشکیل دی
سرینگر//یو این ایس / محکمہ اسکول ایجوکیشن کشمیر نے سرکاری بوائز ہائی اسکول تازو پنجی پورہ، زون سوپور (پی ایم شری سکول )میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق الزامات کی مکمل اور خفیہ تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔جوائنٹ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن نارتھ کشمیر حکیم تنویر احمد (کے اے ایس) کی جانب سے 9 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے حکم نامے کے مطابق انکوائری کمیٹی شائع ہونے والی سوشل میڈیا خبر میں اٹھائے گئے الزامات کی گہرائی سے جانچ کرے گی۔حکم نامے کے تحت کمیٹی کی سربراہی مشتاق احمد، پرنسپل بی ایس ایس ڈانگرپورہ کریں گے، جبکہ پرنسپل ہائر سیکنڈری اسکول بومئی عبدالقیوم ڈار کو ممبر اور گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول سنگھ پورہ کلاں کے سینئر اسسٹنٹ شہنواز سلطان کو بھی ممبر مقرر کیا گیا ہے۔محکمہ نے انکوائری کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ گزشتہ تین برس کے دوران گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول تارزو پنجی پورہ میں سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق تمام معاملات کی جامع جانچ کرے۔ کمیٹی مالیاتی آڈٹ کے ساتھ ساتھ اسکول میں انجام دیے گئے تمام ترقیاتی کاموں کی موقع پر تصدیق بھی کرے گی۔اس کے علاوہ گزشتہ تین برسوں کے دوران کی گئی خریداری، برقرار رکھے گئے ریکارڈ، مختلف سرگرمیوں اور دیگر متعلقہ معاملات کی بھی مکمل جانچ کی جائے گی۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام متعلقہ ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے کر الزامات اور مسائل کے حوالے سے اصل حقائق سامنے لائے۔حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ انکوائری رپورٹ میں کمیٹی کی جانب سے مخصوص نتائج، مشاہدات اور سفارشات شامل ہونی چاہئیں اور ان تمام نکات کو متعلقہ دستاویزی ثبوت سے تقویت دی جانی چاہیے۔محکمہ نے کمیٹی کو حکم دیا ہے کہ انکوائری رپورٹ حکم نامہ موصول ہونے کی تاریخ سے پانچ دن کے اندر لازماً جوائنٹ ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن نارتھ کشمیر کے دفتر میں پیش کی جائے، تاکہ رپورٹ کی بنیاد پر مزید ضروری کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔یہ پیش رفت اس خبر کے بعد سامنے آئی ہے جس میں سرکاری بوائز ہائی اسکول تارزو پنجی پورہ میں سرکاری فنڈز کے استعمال اور مختلف کاموں و خریداریوں سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملات کو اجاگر کیا گیا تھا۔محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے باضابطہ انکوائری کمیٹی کی تشکیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ خبر میں اٹھائے گئے معاملات کو محکمہ نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ تاہم الزامات کی حتمی حقیقت انکوائری مکمل ہونے اور کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔اب تمام متعلقہ حلقوں کی نظریں پانچ روز کے اندر پیش کی جانے والی انکوائری رپورٹ پر مرکوز ہیں، جس میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، ترقیاتی کاموں، خریداریوں اور سرکاری ریکارڈ کے حوالے سے حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔(Order Attached in mail)










