سرینگر/ٹی ای این / ملک بھر میں بینک ملازمین کی یونینوں کی جانب سے 11 ستمبر 2026 کو ایک روزہ ہڑتال کی کال دی گئی ہے، جس کے باعث جمعہ کو بینکنگ خدمات متاثر ہونے کا امکان ہے۔ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور اس کے نتیجے میں کئی بینکوں کی شاخوں میں معمول کی خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر سرکاری شعبے کے بینکوں پر پڑنے کا امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا سمیت کئی بڑے بینکوں نے اپنے صارفین کو پیشگی ضروری بینکنگ کام مکمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ایس بی آئی نے کہا ہے کہ بینک ہڑتال کے دوران ضروری خدمات جاری رکھنے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں، تاہم صارفین کو ڈیجیٹل بینکنگ ذرائع استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ 11 ستمبر کو بینک کی شاخوں میں نقد رقم جمع یا نکالنے، چیک کلیئرنس، قرض سے متعلق کارروائی، پاس بک اور دیگر کاؤنٹر خدمات متاثر ہوسکتی ہیں۔ بعض شاخیں مکمل طور پر بند بھی رہ سکتی ہیں، اس لیے جن صارفین کو بینک میں جا کر ضروری کام کروانا ہے، انہیں پہلے سے اپنے کام نمٹانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ہڑتال کی بنیادی وجہ پانچ روزہ بینکنگ نظام کے مطالبے میں تاخیر بتائی گئی ہے۔ بینک یونینوں کا کہنا ہے کہ پانچ روزہ بینکنگ کا معاملہ مارچ 2024 کے معاہدے میں طے ہونے کے باوجود حکومت کی منظوری کا انتظار کر رہا ہے۔ یونینوں نے دیگر مطالبات بھی اٹھائے ہیں، جن میں بینکوں میں عملے کی مناسب بھرتی، پنشن سے متعلق مسائل اور ملازمین کے دیگر مطالبات شامل ہیں۔یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز نے 28، 29 اور 30 ستمبر کو بھی تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو 26 اکتوبر 2026 سے غیر معینہ مدت کی ملک گیر ہڑتال کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔ دوسری جانب صارفین کے لیے آن لائن بینکنگ، موبائل بینکنگ، یو پی آئی اور اے ٹی ایم جیسی ڈیجیٹل سہولیات عام طور پر دستیاب رہنے کی توقع ہے، تاہم چیک کلیئرنس اور دیگر بینک شاخ سے متعلق خدمات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ایس بی آئی نے بھی صارفین کو اے ٹی ایم، اے ڈی ڈبلیو ایم، کسٹمر سروس پوائنٹس، انٹرنیٹ بینکنگ، یونو اور موبائل بینکنگ استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔اس لیے اگر کسی صارف کو نقد رقم جمع کرانے، چیک کلیئر کرانے، قرض سے متعلق کارروائی یا کسی دیگر ضروری بینکنگ کام کے لیے شاخ کا رخ کرنا ہے تو بہتر ہے کہ وہ 11 ستمبر کی ہڑتال سے قبل اپنا کام مکمل کرلے۔










