اقوام متحدہ کے عہدیدار نے اسے فوسل ایندھن پر انحصار کی قیمت قرار دیا
سرینگر//یو این ایس / یورپی موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے جمعرات کو کہا کہ اگست 2026 اب تک ریکارڈ کیا جانے والا مشترکہ طور پر گرم ترین مہینہ رہا۔ اگست 2026 کا عالمی اوسط درجہ حرارت جولائی 2023 کے برابر رہا۔ادارے کے مطابق اگست کے دوران عالمی سطح پر سطحی ہوا کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے اندازہ شدہ اوسط درجہ حرارت سے 1.65 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ نومبر 2025 کے بعد پہلی مرتبہ کسی مہینے کا عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سیلسیس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ماہرین کے مطابق بلند درجہ حرارت کی اہم وجوہات میں فوسل ایندھن جلانے سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے باعث پیدا ہونے والی عالمی حدت اور بحرالکاہل کے خط استوا کے قریب جاری ال نینو کی صورتحال شامل ہے۔اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی کے ایگزیکٹو سیکریٹری سائمن اسٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ جب تک انسانیت بڑی مقدار میں کوئلہ، تیل اور گیس جلانا بند نہیں کرتی، اس سے پیدا ہونے والی آلودگی زمین کو مسلسل گرم کرتی رہے گی اور شدید گرمی کے واقعات نئے ریکارڈ قائم کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ شدید گرمی لاکھوں لوگوں کی جان لے رہی ہے، کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے، نقل و حمل اور صحت کے نظام کو متاثر کر رہی ہے اور خوراک سمیت گھریلو ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہے۔سائمن اسٹیل نے مزید کہا کہ شواہد بالکل واضح ہیں کہ یہ انسانیت کے فوسل ایندھن پر بڑھتے ہوئے انحصار کی قیمت ہے، جو عالمی موسمیاتی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے بتایا کہ رواں سال اگست میں قطبی علاقوں کے علاوہ دنیا کے سمندری حصوں کی اوسط سطحی درجہ حرارت بھی ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ گیا اور 21.07 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔یہ درجہ حرارت اگست کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ اگست 2023 میں سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 20.98 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ادارے کے مطابق بحرالکاہل کے خط استوا کے قریب ایک مضبوط ال نینو صورتحال بھی تشکیل پا رہی تھی، جس کے باعث اس سمندر میں مزید گرمی پیدا ہوئی۔ ماہرین کے مطابق سمندروں کا درجہ حرارت پہلے ہی کئی دہائیوں سے انسانی سرگرمیوں اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث مسلسل بڑھ رہا ہے۔










