جی ایل او ایف اور برفانی تودوں کے خطرات

جی ایل او ایف اور برفانی تودوں کے خطرات

وزارت داخلہ کی جموں و کشمیر سمیت ہمالیائی خطوں کو ہدایت

سری نگر// یو این ایس / مرکزی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر سمیت ہمالیائی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی ہے کہ گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے سے آنے والے سیلاب، یعنی جی ایل او ایف، اور برفانی تودوں کے خطرے سے دوچار علاقوں کی نگرانی مزید سخت کی جائے اور جانی و مالی نقصان کو کم کرنے کے لیے قبل از وقت انتباہ اور انخلا کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔یہ ہدایات مرکزی وزارت داخلہ کے سیکریٹری گووند موہن نے جمعرات کو نئی دہلی میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران جاری کیں، جس میں ہمالیائی خطے میں جی ایل او ایف اور برفانی تودوں سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے کہا کہ وہ زیادہ خطرے والے علاقوں کی مسلسل اور پیشگی نگرانی یقینی بنائیں، خاص طور پر ایسے اوقات میں جب خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ متعلقہ حکام اور مقامی آبادی تک خطرے سے متعلق انتباہات بروقت پہنچانے پر بھی زور دیا گیا۔حکام کو موجودہ ہنگامی تیاری کے منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لینے، قبل از وقت انتباہ اور انخلا کے انتظامات میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنے اور کسی بھی شدید قدرتی آفت سے قبل ضروری اصلاحی اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔اجلاس میں ہمالیائی خطے میں جی ایل او ایف کے بدلتے ہوئے خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس دوران خطرناک گلیشیائی جھیلوں، برف سے ڈھکے علاقوں، ممکنہ سیلابی راستوں، انتہائی خطرناک مقامات، انخلا کی تیاری اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔وزارت داخلہ کے سیکریٹری گووند موہن نے اس بات پر زور دیا کہ صرف آفت کے بعد ردعمل تک محدود رہنے کے بجائے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی، پیشگی حفاظتی اقدامات اور مقامی سطح پر بہتر تیاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔اجلاس میں اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، سکم، اروناچل پردیش اور جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کے نمائندوں کے علاوہ وزارت داخلہ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، مرکزی آبی کمیشن، محکمہ موسمیات اور ڈیفنس جیو انفارمیٹکس ریسرچ اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔مرکزی حکومت کی جانب سے 2024 میں مختلف ریاستوں کے لیے منظور کیے گئے جی ایل او ایف سے بچاؤ اور خطرات میں کمی کے منصوبوں پر بھی اجلاس میں پیش رفت تیز کرنے پر زور دیا گیا۔اجلاس کے اختتام پر متعلقہ اداروں کے درمیان مسلسل رابطہ اور تعاون برقرار رکھنے، خطرات سے متعلق معلومات باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے اور ہمالیائی خطے کے حساس علاقوں میں قبل از وقت انتباہ اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت دی گئی۔