عدالتی افسران کی سبکدوشی کی عمر 62 سال کرنے کی ہدایت
سرینگر// یو این ایس / سپریم کورٹ نے عدالتی شعبے میں تجربہ کار افسران کی کمی کو روکنے اور زیر التوا مقدمات کے باعث انصاف کی فراہمی متاثر ہونے سے بچانے کے لیے سات ریاستوں کو عدالتی افسران کی سبکدوشی کی عمر 60 سے بڑھا کر 62 سال کرنے کی ہدایت دی ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ان سات ریاستوں کے وہ عدالتی افسران جو رواں سال 31 مارچ یا اس کے بعد 60 سال کی عمر مکمل کرکے سبکدوش ہوچکے ہیں، انہیں دوبارہ عدالتی عہدہ سنبھالنے کا موقع دیا جائے، بشرطیکہ انہوں نے اس دوران کوئی دوسری ملازمت اختیار نہ کی ہو۔سپریم کورٹ نے چھتیس گڑھ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، سکم، تمل ناڈو اور مغربی بنگال کو ہدایت دی کہ وہ اپنے سروس قواعد میں ترمیم کرکے عدالتی افسران کی سبکدوشی کی عمر 62 سال کریں۔ تاہم 60 سال کی عمر مکمل ہونے پر متعلقہ افسر کی اہلیت اور کارکردگی کا جائزہ متعلقہ ہائی کورٹ کی جانب سے لیا جائے گا۔عدالت نے کہا کہ قواعد میں ترمیم ہونے تک مذکورہ ریاستوں میں 60 سال کی عمر مکمل کرنے والا کوئی عدالتی افسر سبکدوش نہیں ہوگا اور وہ 62 سال کی عمر تک خدمات انجام دے سکے گا، بشرطیکہ متعلقہ ہائی کورٹ اس کی اہلیت اور کارکردگی سے مطمئن ہو۔ عدالت نے ریاستوں کو قواعد میں ترمیم جلد از جلد، ترجیحاً دو ماہ کے اندر، مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔سپریم کورٹ نے آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، آسام، بہار، گوا، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، کیرالہ، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، اوڈیشہ، پنجاب، راجستھان، تلنگانہ، تریپورہ، اتراکھنڈ، اتر پردیش، دہلی، جموں و کشمیر اور پڈوچیری کو بھی عدالتی افسران کی سبکدوشی کی عمر بڑھانے کے معاملے پر اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی ہے۔ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس معاملے پر دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کرکے تعمیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔عدالت نے کہا کہ اس بات کو مدنظر رکھا گیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور ضلعی عدلیہ میں سبکدوشی کی عمر میں فرق ایک جائز توقع ہوسکتی ہے، تاہم موجودہ وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تجربہ کار عدالتی افسران کی کمی کو روکا جائے تاکہ منظور شدہ اور عملی طور پر موجود عدالتی عہدوں کے درمیان فرق کم ہو اور خالی آسامیوں کے باعث انصاف کی فراہمی متاثر نہ ہو۔بنچ نے کہا کہ بعض ہائی کورٹس نے عدالتی افسران کی کارکردگی اور کام کا جائزہ لینے کی شرط عائد کی ہے، تاکہ نااہل افسران کو نظام میں برقرار نہ رکھا جائے اور صرف قابل و دیانت دار افسران کو خدمات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔عدالت نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تجربہ کار عدالتی افسران کی خدمات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ ایسے افسران کو ہٹانے کا راستہ بھی کھلا رہے گا جو نظام میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔سپریم کورٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ریاستی حکومتیں عدالتی افسران کی سبکدوشی کی عمر بڑھانے کی مخالفت کے لیے مالی بوجھ کو بنیاد نہیں بنا سکتیں۔ عدالت ملک بھر میں ضلعی عدلیہ کے ججوں کی سبکدوشی کی عمر 60 سے بڑھا کر 62 سال کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔سپریم کورٹ کے جج 65 سال جبکہ ہائی کورٹ کے جج 62 سال کی عمر میں سبکدوش ہوتے ہیں۔یہ معاملہ 2002 میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے پس منظر میں بھی سامنے آیا ہے جس میں جسٹس کے۔ جگن ناتھ شیٹی کمیشن کی اس سفارش کو قبول نہیں کیا گیا تھا جس میں ضلعی ججوں کی سبکدوشی کی عمر 62 سال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ بعد ازاں تلنگانہ اور مدھیہ پردیش سمیت بعض ریاستوں نے عدالتی افسران کی سبکدوشی کی عمر بڑھانے کی سمت میں اقدامات کیے۔










