ہزاروں افراد تاحال لاپتہ،نیپال میں سیلاب کی تباہ کاری، 903 افراد ہلاک، 4 ہزار 247 لاپتہ
سری نگر/یواین ایس / نیپال میں تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کرگئی ہے جبکہ ہزاروں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ سیلاب کے بعد تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں چھٹے روز بھی جاری ہیں۔رپورٹس کے مطابق 26 اگست کو نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب گلیشیائی تودہ گرنے کے واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر پانی اور ملبے کا سیلاب آیا، جس نے کئی اضلاع میں رہائشی علاقوں، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔دکن ہیرالڈ کے مطابق نیپال کے حکام نے ہلاکتوں کی سرکاری تعداد 903 بتائی ہے جبکہ 4 ہزار 247 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ قومی ادارہ برائے قدرتی آفات میں کمی اور انتظامی امور کے مطابق متاثرہ تمام 8 اضلاع سے لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں اور امدادی ٹیمیں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اور لاشوں کی بازیابی میں مصروف ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف پن بجلی منصوبوں سے وابستہ 900 سے زائد کارکنوں کے کئی مقامات پر سرنگوں کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ مقامی امدادی اداروں کے ساتھ ہندوستان، چین اور جمہوریہ کوریا کی امدادی ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد تک پہنچنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ زیریں علاقوں میں سیلاب کا خطرہ برقرار رہنے کے باعث انتباہ جاری ہے۔میڈیا کے مطابق یہ تباہی گلیشیائی تودہ گرنے اور بڑے پیمانے پر چٹانیں کھسکنے کے واقعے کے بعد پیش آئی، جسے 5.2 شدت کے زلزلہ نما ارتعاش کے طور پر ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں آنے والے پانی کے شدید ریلے نے دریائی وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا اور ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے۔نیپال کے آفات سے نمٹنے والے حکام کے مطابق لاپتہ افراد میں سیکڑوں غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ بین الاقوامی امدادی ٹیمیں بھی مقامی اداروں کے ساتھ مل کر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چتوان، نوال پرسی مشرقی اور نوال پرسی مغربی اضلاع میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ قومی ادارہ برائے قدرتی آفات کے مطابق لاپتہ افراد میں 85 سکیورٹی اہلکار اور 320 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جس سے اس قدرتی آفت کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔متاثرہ علاقوں میں تلاش، بچاؤ اور امدادی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔ حکام کی جانب سے زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے، لاشیں برآمد کرنے اور سیلاب کے باعث منقطع ہونے والی آبادیوں تک امداد پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔










