کشمیر کے سیب کی ریل کے ذریعے نقل و حمل کا منصوبہ خوش آئند/ زرعی ماہرین

کشمیر کے سیب کی ریل کے ذریعے نقل و حمل کا منصوبہ خوش آئند/ زرعی ماہرین

سیب کی ترسیل کیلئے ریل کو متبادل اور قابل اعتماد ذریعہ بنانے کی ضرورت

سری نگر// یو این ایس / کشمیر کے سیب کو ریل کے ذریعے ملک کی مختلف منڈیوں تک پہنچانے کیلئے محکمہ باغبانی منصوبہ بندی و مارکیٹنگ (جے کے ایچ پی ایم) کی جانب سے اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس نظام کو مزید مؤثر اور مستقل بنانے پر زور دیا گیا ہے۔زرعی شعبے سے متعلق ایک اداریے میں کہا گیا ہے کہ ہر سال سیب کی کٹائی کے موسم میں کشمیر کی باغبانی صنعت کو سری نگر۔جموں قومی شاہراہ پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جبکہ خراب موسم، اچانک بارش، مٹی کے تودے گرنے اور دیگر ہنگامی حالات کے باعث شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حرکت بار بار متاثر ہوتی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں پھلوں کی ترسیل میں تاخیر، اخراجات میں اضافہ اور بالخصوص جلد خراب ہونے والی پیداوار کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اداریے کے مطابق اس پس منظر میں جے کے ایچ پی ایم کی جانب سے کشمیر کے سیب کی ریل کے ذریعے نقل و حمل کے امکانات تلاش کرنا ایک بروقت قدم ہے۔ اس سلسلے میں ریلوے حکام اور پھل و سبزی منڈیوں کے نمائندوں کے ساتھ منعقدہ اجلاس کو وادی کے باغبانی شعبے کیلئے ایک متبادل اور زیادہ قابل اعتماد نقل و حمل کا راستہ تیار کرنے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریل کو محض اضافی متبادل کے بجائے کشمیر کی پھلوں کی ترسیل کی مجموعی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا جانا چاہیے۔ سیب کی کٹائی کے عروج کے موسم میں ہزاروں ٹن پھل محدود مدت کے اندر ملک کی مختلف منڈیوں تک پہنچانا ہوتا ہے، اس لیے قومی شاہراہ کی طویل بندش سے نہ صرف ترسیل متاثر ہوتی ہے بلکہ پھلوں کے معیار، قیمتوں، منڈیوں میں آمد اور بالآخر کاشتکاروں کی آمدنی پر بھی اثر پڑتا ہے۔اداریے میں کہا گیا ہے کہ ریلوے حکام کی جانب سے باغبانی شعبے کے مسائل کا جائزہ لینے پر آمادگی حوصلہ افزا ہے، تاہم اب اس سلسلے میں ٹھوس عملی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ریک کی دستیابی، باقاعدہ اوقات کار، پھلوں کی لوڈنگ اور اَن لوڈنگ کی سہولیات، مناسب پیکنگ، جلد خراب ہونے والی پیداوار کی محفوظ ہینڈلنگ اور مسابقتی مال برداری کے کرائے اس نظام کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔رپورٹ میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سیب کی کٹائی کے موسم میں کشمیر سے بھیجی جانے والی پھلوں کی کھیپ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ قومی شاہراہ میں رکاوٹ یا شدید دباؤ کی صورت میں جلد خراب ہونے والی باغبانی پیداوار کی ترجیحی بکنگ اور نقل و حمل کیلئے پیشگی طریقہ کار وضع کیا جانا چاہیے تاکہ ہر بار ہنگامی صورتحال میں انتظامات کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔اداریے کے مطابق محکمہ باغبانی، ریلوے حکام، کاشتکاروں، تاجروں اور پھل منڈیوں کی انجمنوں کو مل کر سیب کی ترسیل کیلئے موسمی ریلوے لاجسٹکس منصوبہ تیار کرنا چاہیے، جسے فصل کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت شروع ہونے سے پہلے نافذ کیا جائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کی سیب کی معیشت کو مستحکم، قابل اعتماد اور کم لاگت نقل و حمل کے نظام کی ضرورت ہے۔ جے کے ایچ پی ایم کا موجودہ اقدام ایک خوش آئند آغاز ہے، تاہم اسے کشمیر کی باغبانی پیداوار کیلئے مستقل، مؤثر اور ترجیحی بنیادوں پر ریل نقل و حمل کے نظام میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔