Sakeena Itoo

ایم بی بی ایس انٹرنز کا ماہانہ وظیفہ 30 ہزار کرنے کی تجویز زیر غور/وزیر صحت

انٹرنز کے وظیفے میں اضافے کی تجویز محکمہ خزانہ کو ارسال، فیصلہ جلد متوقع

سری نگر/یو این ایس / جموں و کشمیر کی وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے پیر کے روز کہا کہ حکومت ایم بی بی ایس انٹرنز کا ماہانہ وظیفہ 12 ہزار روپے سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کرنے کی تجویز پر کارروائی کر رہی ہے اور معاملہ اس وقت محکمہ خزانہ کے زیر غور ہے۔سکینہ ایتو نے کہا کہ انٹرنز کی جانب سے وظیفے میں اضافے کا مطالبہ جائز ہے، خصوصاً موجودہ مہنگائی کے پیش نظر، اور حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے پہلے ہی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ انٹرنز کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد ان کی فائل تیار کرکے محکمہ خزانہ کو بھیجی گئی ہے تاکہ مجوزہ اضافے کے مالی اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاملہ فی الحال زیر عمل ہے۔وزیر صحت نے کہا کہ حکومت خود بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہے کہ موجودہ حالات میں انٹرنز کے وظیفے میں اضافہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باعث انٹرنز کی مشکلات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سکینہ ایتو نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی اس معاملے سے واقف ہیں اور محکمہ صحت نے اس سلسلے میں کام شروع کر رکھا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز نے جموں و کشمیر کے مختلف سرکاری طبی اداروں، جن میں ایس کے آئی ایم ایس بمنہ بھی شامل ہے، میں اپنے ماہانہ وظیفے میں اضافے کے مطالبے کو لے کر پْرامن احتجاج کیا۔انٹرنز کا کہنا ہے کہ لازمی انٹرن شپ کے دوران انہیں بھاری کام، طویل اوقات کار اور مریضوں کی دیکھ بھال سمیت متعدد ذمہ داریاں انجام دینا پڑتی ہیں، اس لیے موجودہ وظیفہ ان کی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔وزیر صحت نے انٹرنز کے مطالبے کو جائز قرار دیتے ہوئے تاہم کہا کہ اس معاملے پر ہڑتال کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ حکومت پہلے ہی اس پر غور کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہڑتال سے مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہوتی ہے، اس لیے انٹرنز کو احتجاج کے بجائے حکومت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔مجوزہ اضافے کے مالی اثرات کا جائزہ محکمہ خزانہ کی جانب سے لیا جارہا ہے اور انٹرنز اب حکومت کی جانب سے حتمی فیصلے کے منتظر ہیں۔