کشمیر میں قرضوں کی فراہمی کیوں کم کی جارہی ہے؟

الطاف بخاری کا جے اینڈ کے بینک سے سوال،جے اینڈ کے بینک کی کشمیر میں قرضہ شرح نمو 9 فیصد، بیرونِ جموں و کشمیر 30 فیصد

سری نگر// یو این ایس / اپنی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر خزانہ الطاف بخاری نے جموں و کشمیر بینک کی قرضہ پالیسی، بھرتی کے طریقہ کار اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بینک کا صدر دفتر سری نگر سے منتقل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف بخاری نے جموں و کشمیر بینک کو جموں و کشمیر کے لیے ایک اہم ادارہ قرار دیا اور کہا کہ بینک نے خطے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ جموں و کشمیر کے مقابلے میں ملک کے دیگر حصوں میں بینک کے قرضوں میں زیادہ تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر میں بینک کی قرضہ شرح نمو تقریباً 9 فیصد ہے جبکہ ملک کے باقی حصوں میں یہ شرح تقریباً 30 فیصد ہے۔ الطاف بخاری نے کہا کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینک جموں و کشمیر میں قرضوں کی فراہمی محدود کررہا ہے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں اپنی قرضہ سرگرمیوں کو وسعت دے رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کشمیر میں قرضوں کی فراہمی کیوں کم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت سابق وزیر خزانہ وہ جانتے ہیں کہ جموں و کشمیر بینک کے غیر فعال قرضوں کا تناسب کشمیر میں دیے جانے والے قرضوں کے مقابلے میں چار سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں کشمیر میں قرضوں کی فراہمی کم کرنے اور ملک کے دیگر حصوں میں بڑھانے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ الطاف بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت بینک کی اکثریتی حصص دار ہے اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے پاس محکمہ خزانہ کا قلمدان بھی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اس معاملے پر صورتحال واضح کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے جے اینڈ کے بینک کی جانب سے جموں و کشمیر سے باہر بھرتیوں پر بھی سوال اٹھایا۔ بخاری نے کہا کہ ماضی میں یہ بینک جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرتا رہا ہے، تاہم اب بیرونِ جموں و کشمیر مقامی سطح پر بھرتیاں کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان جب اپنے خطے میں بینک کے ساتھ کام کرتے ہیں تو ان کا ادارے کے ساتھ جذباتی تعلق ہوتا ہے اور وہ اسے اپنا بینک سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ بورڈ میں کشمیر کی مناسب نمائندگی نہیں ہے۔ ان کے مطابق بورڈ میں زیادہ تر افراد جموں و کشمیر سے باہر کے ہیں جبکہ کشمیر کی نمائندگی بہت محدود ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر فوری وضاحت کا مطالبہ کیا۔ الطاف بخاری نے جے اینڈ کے بینک کے صدر دفتر کو سری نگر سے منتقل کیے جانے کی مبینہ کوشش پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر حکومت سے اپیل کی کہ اگر ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے تو اسے فوری طور پر روکا جائے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر بینک خطے کے لوگوں کے جذبات سے جڑا ہوا ادارہ ہے اور اس کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں میں جموں و کشمیر کے مفادات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔