وزیراعلیٰ نے ایس کے آئی سی سی میں جموں وکشمیر ٹیچرز فورم کے زیر اہتمام ایک روزہ ایجوکیشن کانفرنس سے خطاب کیا

وزیراعلیٰ نے ایس کے آئی سی سی میں جموں وکشمیر ٹیچرز فورم کے زیر اہتمام ایک روزہ ایجوکیشن کانفرنس سے خطاب کیا

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جموںوکشمیر کے بچوں کے مستقبل کی تشکیل کیلئے مشترکہ ذِمہ داری پر زور دیا اوراساتذہ کو تعاون کا یقین دِلایا

سری نگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی تشکیل کی ذِمہ داری صرف اساتذہ پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ اُنہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت، والدین اور اَساتذہ کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بچوں کو تیزی سے بدلتی ہوئی دُنیاکے لئے تیار کیا جا سکے۔اُنہوںنے شیرکشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی ) میں جموں و کشمیر ٹیچرز فورم کی جانب سے منعقدہ ایک روزہ تعلیمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے مستقبل کا تعین کرنے میں اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے، تاہم تمام تر ذمہ داری ان پر ڈالنا نااِنصافی ہوگی اوریہ پہلے سے مشکل پیشے پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔کانفرنس جس کا موضوع ’’بچہ ہماری ترجیح ہے ‘‘میں ماہرینِ تعلیم، محققین، پالیسی سازوں اور اَساتذہ نے شرکت کی۔ کانفرنس میں شعبہ تعلیم کو درپیش اہم مسائل، اساتذہ اورطالب علموں کو درپیش چیلنجوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور و خوض کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے تدریسی پیشے کی بدلتی ہوئی نوعیت کا ذِکر کرتے ہوئے کہا کہ آج اَساتذہ کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے، وہ 10، 15 یا 20 سال پہلے کے درپیش چیلنجوں سے بہت مختلف ہیں۔اُنہوں نے کہا، ’’ایک وقت تھا جب ہم اَساتذہ کے بارے میں شکایت کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔کے جی سے لے کر بارہویں جماعت تک مجھے یاد نہیں ہے کہ میں نے کبھی اَپنے والدین سے کسی اُستاد کی شکایت کی ہو۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ آج کے بچے ایک بالکل مختلف ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ بچوں کو سوالات پوچھنے کی ترغیب ضروری دِی جانی چاہیے، تاہم انہیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ وہ غور سے سنیں اور ملنے والے جوابات پر مکالمہ اور غور و فکر کریں۔ اُنہوں نے سابق صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی اس بات کا حوالہ دیا جس میں اُنہوں نے بچوں کے ذہنوں کی تشکیل اور ایک بہتر معاشرے کی تعمیر میں والدین اور اَساتذہ کے کردار پر زور دیا تھا۔وزیراعلیٰ نے کہا، ’’آج جب ہم آپ پر زیادہ ذمہ داریاں ڈالتے ہیں تو مجھے یہ بھی احساس ہے کہ آج اُستاد بننا اتنا آسان نہیں جتنا 10 سے 20 سال پہلے تھا۔‘‘اُنہوں نے نشاندہی کی کہ آج اساتذہ کو بچوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے سمارٹ فونز، سوشل میڈیا، متعدد ٹیلی ویژن چینلوں اور اَب آرٹیفیشل اِنٹلی جنس(اے آئی) سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’آج آپ کا مقابلہ سمارٹ فون، سوشل میڈیا، مختلف چینلوں اور بہت سی دوسری چیزوں سے ہے، اور اَب آرٹیفیشل اِنٹلی جنس بھی موجود ہے۔ ایسے میں ایک اُستاد کے لئے یہ فیصلہ کرنا کتنا مشکل ہوگا کہ بچے کا اسائنمنٹ اس کی اپنی تخلیق ہے یا اس میں آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کی مدد لی گئی ہے۔‘‘عمر عبداللہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ حکومت خود بھی اکثر اَساتذہ کو کلاس روم میں تدریس کے علاوہ مختلف سرگرمیوں میں شامل کرکے ان کی ذِمہ داریوں میں اِضافہ کرتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ طلبأ کو قومی تقریبات کے موقعے پر ثقافتی پروگراموں کے لئے تیار کرنے سے لے کر مختلف اہم یادگاری دنوں پر کے حوالے سے سرگرمیاں منعقد کرنے، ’نشہ مکت بھارت ‘مہمات میں شرکت یا اِنتخابات سے متعلق ذِمہ داریاں نبھانے سمیت اَساتذہ کو اکثر اضافی فرائض بھی انجام دینے پڑتے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ نے تدریسی کمیونٹی کو یقین دِلایا کہ حکومت ان کے حقیقی خدمات سے متعلق اور پیشہ ورانہ مسائل کو حل کرے گی جن میں تبادلے، محکمانہ ترقیاتی کمیٹیاں (ڈِی پی سیز)، خالی اَسامیاں اور دیگر مسائل شامل ہیں۔اُنہوں نے کہا، ’’اگر آپ کو تبادلوں کے حوالے سے مسائل ہیں، اگرڈی پی سیزکے حوالے سے مسائل ہیں، اگر خالی اَسامیوں کے مسائل ہیں یا کسی اور معاملے میں دشواری ہے تو ہمیں ان مسائل کو حل کرنا ہوگا۔‘‘ اُنہوں نے اَساتذہ کو یقین دِلایا کہ وہ اور وزیر تعلیم سکینہ اِیتو اِن کے مسائل کو حل کرنے کے لئے مل کر کام کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان مشکل حالات کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے جن میں بہت سے اساتذہ بالخصوص دُور دراز اور دیہی علاقوں کے سکولوں میں اَپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا، ’’گاؤں کے دُور دراز سکولوں میں تعلیم فراہم کرنا آسان نہیں ہے۔ وہاں کام کرنا مشکل ہے۔‘‘ اُنہوں نے ایسے علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اَساتذہ پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیاجو اکثر بااثر اَفراد یا اقتدار کے مراکز تک رسائی سے محروم ہوتے ہیں۔عمر عبداللہ نے اساتذہ کی تقسیم میں تفاوت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض شہری سکولوں میں طالب علموں کی تعداد کم ہونے کے باوجود اَساتذہ زیادہ ہیںجبکہ دُور دراز علاقوں کے سکولوں میں اَساتذہ کی کمی کا سامنا ہے۔اُنہوںنے واضح کیا کہ بنیادی ڈھانچے کی کمی کو دُور کرنا اور خالی اَسامیوں کو پُرکرنا اَساتذہ کی نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا، ’’بنیادی ڈھانچے میں خلا موجود ہے۔ہم سمارٹ کلاسز کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن ہم انہیں کہاں تک لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ سمارٹ کلاسز تو بہت دور کی بات ہے۔ کچھ جگہوں پر، ہم ابھی تک سکولوں کے لئے صحیح بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کے قابل نہیں ہیں- جہاں سکول کرائے کی رہائش، غیر محفوظ عمارتوں میں چل رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ حکومت بتدریج سکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لئے کام کر رہی ہے، تاہم ان خامیوں کو دور کرنا اِنتظامیہ کی ذِمہ داری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا اور خالی اَسامیوں کو پُر کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’آپ کے ہاتھ مضبوط کرنا تاکہ آپ اَپنا کام بہتر طریقے سے اَنجام دے سکیں، میری اور میرے ساتھیوں کی ذمہ داری ہے۔‘‘اُنہوںنے اَساتذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کو ان کی اُمنگوں اور مقاصد کی شناخت میں مدد دیں اور انہیں جموں و کشمیر کی مثبت ترقی میں اَپنا کردار اَدا کرنے کے لئے تیار کریں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ 1947 سے اَب تک جموں و کشمیر نے کافی ترقی کی ہے، تاہم دُنیا میں تبدیلی کی رفتار بہت تیز ہو رہی ہے اور تعلیمی نظام کو بچوں کو ایک بالکل مختلف مستقبل کے لئے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’ہم نے 1947 سے آج تک بہت ترقی کی ہے لیکن دُنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ جن تبدیلیوں میں 30، 40 یا 50 سال لگتے تھے، وہ اگلے 20 یا 30 سال میں بہت تیزی سے رونما ہوں گی۔ ہمیں اَپنے بچوں کو اس کے لئے تیار کرنا ہوگا۔‘‘
عمر عبداللہ نے اِس بات پر زور دیا کہ حتمی مقصد بچوں کو ایسی صلاحیتوں، اعتماد اور اَقدار سے آراستہ کرنا ہونا چاہیے جو انہیں جموں و کشمیر کے لئے مثبت کردار اَدا کرنے کے قابل بنائیں۔اُنہوں نے کہا، ’’یہ سب جموں و کشمیر کے لئے ہے اور یہ صرف آپ کی ذِمہ داری نہیں ہے۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ اسی وقت کامیاب ہوسکتے ہیں جب حکومت ان کے لئے کام کرنے کا مناسب ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہو گی۔وزیراعلیٰ نے کہا، ’’آپ صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکیں گے جب ہم کامیاب ہوں گے۔ اگر ہم آپ کی صورتحال بہتر بنائیں گے، اگر ہم سکول بہتر بنائیں، تو آپ اَپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنا سکیں گے۔‘‘وزیراعلیٰ نے ٹیچر اہلیت ٹیسٹ (ٹی اِی ٹی) کے مسئلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بارہا اس معاملے کو اُٹھانے کی کوشش کی ہے اورآئندہ بھی اَپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔اُنہوں نے کہا، ’’ہم اسے حل کرنے کی کوشش کریں گے لیکن اس اُمید کے ساتھ کہ ہم جموں و کشمیر کے طلباء کی تعلیم کو بہتر بنائیں گے۔‘‘
وزیرِ اعلیٰ نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ اَساتذہ کو یہ محسوس نہیں کرنا چاہیے کہ حکومت نے تعلیمی تبدیلی کی تمام ذمہ داری ان کے کندھوں پر ڈال دی ہے اور پھر انہیں درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے تنہا چھوڑ دیا ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’یہ مت سمجھیں کہ ہم نے تمام ذِمہ داری آپ کو دے دی ہے کہ آپ یہ سب کریں اور ہم چلے جائیں۔ ایسا نہیں ہوگا۔‘‘وزیربرائے تعلیم سکینہ اِیتو اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور معاشرے میں اَساتذہ کے اہم کردار کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع کئے گئے مختلف اَقدامات پر بھی روشنی ڈالی جن میں وادیٔ کشمیر اور جموں ڈویژن کے سرمائی علاقوں میں سرمائی سیشن کو تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔اِس موقعہ پر ممبر اسمبلی بیروہ ڈاکٹر شفیع احمد وانی،رُکن خانصاحب سیف الدین بٹ، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کشمیر نصیر احمد وانی، چیف ایجوکیشن اَفسران، چیئرمیںجموں و کشمیر ٹیچرز فورم محمد شفیع راتھر، فورم کے عہدیداران اور بڑی تعداد میں اَساتذہ موجود تھے۔