شیلانگ (میگھالیہ)/ایجنسیز// 19 اگست کو ایک طلبہ تنظیم کی احتجاجی ریلی کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعہ کے بعد آسام اور میگھالیہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مقامی لوگوں میں ایندھن کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ شیلانگ کے پٹرول پمپوں پر پٹرول حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ قطار میں کھڑے لوگوں نے آسام-میگھالیہ سرحد پر کشیدہ صورتحال کے درمیان ایندھن کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ پر تشویش ظاہر کی۔ایک مقامی شخص نے کہا، ”بحران ہوسکتا ہے، اسی لیے اتنی بھیڑ ہے۔ پٹرول کے بغیر زندگی نہیں ہے۔ جب ایک شخص سے پوچھا گیا کہ صورتحال کب معمول پر آئے گی تو اس نے کہا کہ دیکھتے ہیں، ایک میٹنگ ہے۔ ایک اور شخص نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آسام سے سپلائی بند ہوگئی ہے۔ یہ تشویش 19 اگست کو شیلانگ میں کھاسی اسٹوڈنٹس یونین کی جانب سے نکالی گئی ’بلیک فلیگ بائیک ریلی‘ کے بعد سامنے آئی، جو بعد میں پرتشدد ہوگئی تھی۔ اس دوران پتھراؤ، گاڑیوں پر حملے اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے، جن میں آسام کے رجسٹریشن والی گاڑیوں سمیت کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔الزام ہے کہ سوامی وویکانند اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کے مجسموں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ میگھالیہ پولیس نے تشدد کے سلسلے میں طلبہ تنظیم کے تین اعلیٰ رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے۔ 19 اگست کو شیلانگ میں آسام نمبر والی گاڑیوں پر حملوں سمیت پرتشدد واقعات کے بعد آسام کیب ڈرائیورز اسوسی ایشن اور مقامی افراد نے 20 اگست سے آسام ۔میگھالیہ سرحد کے جوربات علاقہ میں احتجاج شروع کر رکھا ہے۔










