بخشی اسٹیڈیم اور مولانا آزاد اسٹیڈیم میں مرکزی تقریبات، حساس مقامات پر سخت پہرہ
سرینگر// جموں و کشمیر میں آج یوم آزادی کی تقریبات منعقد ہوں گی۔ اس موقع پر پورے مرکزی زیر انتظام خطے میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور پولیس، فوج، نیم فوجی دستوں اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ سرینگر اور جموں میں مرکزی تقریبات کے علاوہ تمام ضلعی صدر مقامات، تحصیلوں اور مختلف سرکاری و تعلیمی اداروں میں بھی پرچم کشائی اور ثقافتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔یو این ایس کے مطابق سرینگر میں مرکزی یوم آزادی تقریب بخشی اسٹیڈیم میں منعقد ہوگی، جہاں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ قومی پرچم لہرائیں گے اور مارچ پاسٹ پر سلامی لیں گے۔ تقریب میں سول و پولیس انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، سیکورٹی فورسز کے افسران، عوامی نمائندے، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت متوقع ہے۔بخشی اسٹیڈیم اور اس کے گرد و نواح کو سخت حفاظتی حصار میں لے لیا گیا ہے۔ اسٹیڈیم کے اطراف تین سطحی سیکورٹی انتظامات نافذ کیے گئے ہیں، جبکہ اس کی طرف جانے والے تمام اہم راستوں پر اضافی ناکے اور چیکنگ پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ تقریب میں شرکت کرنے والے افراد اور گاڑیوں کی سخت جانچ کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق بخشی اسٹیڈیم میں تقریب سے قبل مکمل حفاظتی تلاشی کا عمل انجام دیا گیا، جس کے دوران بم ناکارہ بنانے والے دستوں اور سونگھنے والے کتوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ اسٹیڈیم کے داخلی و خارجی راستوں پر خصوصی نگرانی رکھی گئی ہے اور صرف مجاز افراد کو مکمل جانچ کے بعد اندر جانے کی اجازت دی جائے گی۔حساس مقامات اور بلند عمارتوں پر ماہر نشانہ بازوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں اور دیگر تکنیکی ذرائع سے علاقے کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اسٹیڈیم کے اطراف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی نفری تعینات ہے اور کسی بھی مشتبہ نقل و حرکت پر فوری کارروائی کے لیے خصوصی ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔اسی طرح جموں میں مولانا آزاد اسٹیڈیم میں یوم آزادی کی مرکزی تقریب منعقد ہوگی، جہاں نائب وزیر اعلی ٰسریندر کمار چودھری مارچ پاسٹ پر سلامی لیں گے۔ تقریب کے پیش نظر مولانا آزاد اسٹیڈیم اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بھی سخت حفاظتی انتظامات نافذ کیے گئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق اسٹیڈیم کی طرف جانے والے راستوں پر پولیس اور سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ گاڑیوں اور افراد کی تلاشی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکام نے مرکزی تقریب کے مقامات کو حفاظتی نقطہ نظر سے مکمل طور پر محفوظ بنانے کے لیے کئی روز قبل ہی انتظامات شروع کر دیے تھے۔سرینگر شہر سمیت وادی کشمیر کے تمام اضلاع میں بھی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ اہم سرکاری عمارتوں، پولیس اور سیکورٹی تنصیبات، بازاروں، بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، سیاحتی مقامات اور دیگر حساس علاقوں میں اضافی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔شہر سرینگر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی خصوصی نگرانی جاری ہے۔ مختلف مقامات پر ناکے قائم کیے گئے ہیں جہاں گاڑیوں اور مسافروں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز کی مشترکہ گشت کو مزید بڑھا دیا گیا ہے جبکہ رات کے اوقات میں بھی حساس علاقوں میں نگرانی سخت رکھی گئی۔وادی کے مختلف اضلاع میں پولیس نے مقامی انتظامیہ اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل قائم کرتے ہوئے یوم آزادی کی تقریبات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خصوصی منصوبہ تیار کیا ہے۔ حساس علاقوں میں فورسز کی موجودگی بڑھا دی گئی ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری ردعمل دینے والی ٹیموں کو تیار رکھا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق دوسری جانب لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے ساتھ واقع علاقوں میں بھی سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر چوکس کر دیا گیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں فوج اور دیگر حفاظتی دستے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ دراندازی، مشتبہ نقل و حرکت یا دیگر تخریبی سرگرمی کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔سرینگر،جموں قومی شاہراہ پر بھی خصوصی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شاہراہ کے حساس مقامات، سرنگوں، پلوں اور دیگر اہم تنصیبات کے نزدیک نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ مسافروں اور گاڑیوں کی جانچ کے ساتھ ساتھ شاہراہ پر پولیس اور سیکورٹی فورسز کی گشت جاری ہے۔حکام کے مطابق یوم آزادی کے موقع پر ممکنہ دہشت گردانہ یا تخریبی کارروائیوں کے خدشات کے پیش نظر تمام سیکورٹی ایجنسیوں کو مکمل طور پر متحرک رکھا گیا ہے۔ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر حساس مقامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان رابطہ کاری کا نظام مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔یوم آزادی کی تقریبات کے دوران تمام ضلعی صدر مقامات پر قومی پرچم لہرایا جائے گا اور پولیس، سیکورٹی فورسز اور دیگر دستوں کی جانب سے مارچ پاسٹ پیش کیا جائے گا۔ مختلف اضلاع میں متعلقہ وزرا ، انتظامی افسران اور دیگر حکام تقریبات میں شرکت کریں گے۔تعلیمی اداروں میں بھی یوم آزادی کی مناسبت سے خصوصی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں طلبہ قومی ترانے، حب الوطنی پر مبنی گیتوں اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ مختلف مقامات پر ثقافتی پروگرام اور دیگر تقریبات کے ذریعے قومی یکجہتی اور بھائی چارے کا پیغام دیا جائے گا۔پولیس اور انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ یوم آزادی کی تقریبات کے دوران سیکورٹی انتظامات میں تعاون کریں، چیکنگ کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی مشتبہ شخص، لاوارث شے یا غیر معمولی سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس یا متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں کو دیں۔حکام کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں یوم آزادی کی تقریبات کو پْرامن اور خوش اسلوبی سے منعقد کرنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ مرکزی تقریب گاہوں سے لے کر ضلعی سطح تک سیکورٹی اور انتظامی مشینری کو متحرک رکھا گیا ہے تاکہ عوام محفوظ ماحول میں قومی جشن میں شرکت کر سکیں۔










