جون میں بجلی کی طلب میں کمی، دن میں زیادہ سے زیادہ طلب 2,653 میگاواٹ// وزیر بجلی
سرینگر//جموں و کشمیر میں رواں موسم گرما کے دوران بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں مئی 2026 کے دوران دن کے اوقات میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 3,063 میگاواٹ تک پہنچ گئی، تاہم حکومت کے مطابق اس پوری طلب کو پورا کیا گیا۔راجیہ سبھا میں پیر کو پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مئی کے دوران جموں و کشمیر کی مجموعی توانائی کی ضرورت 1,637 ملین یونٹ رہی، جبکہ اس کے مقابلے میں 1,626 ملین یونٹ بجلی فراہم کی گئی۔یو این ایس کے مطابق وزارت بجلی کے مطابق غیر شمسی اوقات میں یوٹی کی زیادہ سے زیادہ طلب 2,816 میگاواٹ ریکارڈ ہوئی، جبکہ 2,776 میگاواٹ بجلی فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں 40 میگاواٹ کا فرق برقرار رہا۔اعداد و شمار کے مطابق مئی میں دن کے اوقات میں ریکارڈ کی گئی 3,063 میگاواٹ کی طلب اپریل کے 2,715 میگاواٹ کے مقابلے میں 348 میگاواٹ زیادہ تھی۔ اپریل کے دوران دن اور غیر شمسی اوقات دونوں میں زیادہ سے زیادہ طلب مکمل طور پر پوری کی گئی تھی۔جون میں بجلی کی طلب میں کچھ کمی ریکارڈ ہوئی۔ اس ماہ دن کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ طلب 2,653 میگاواٹ رہی اور حکومت کے مطابق پوری طلب پوری کی گئی۔ غیر شمسی اوقات میں طلب 2,592 میگاواٹ رہی، جسے بھی مکمل طور پر پورا کیا گیا۔جون کے دوران جموں و کشمیر کی توانائی کی ضرورت 1,584 ملین یونٹ رہی، جبکہ 1,569 ملین یونٹ بجلی فراہم کی گئی۔مئی اور جون کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ بجلی کی طلب میں نمایاں اتار چڑھاؤ آیا، خصوصاً مئی میں دن کے اوقات کے دوران طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا، تاہم جون میں یہ رجحان نسبتاً کمزور پڑا۔وزارت بجلی نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ ملک میں مجموعی طور پر بجلی کی دستیابی مناسب ہے اور جون 2026 تک ملک کی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 548.86 گیگاواٹ تک پہنچ چکی تھی۔جموں و کشمیر میں گزشتہ برسوں کے دوران بجلی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث موسم گرما اور سرما دونوں میں طلب کو پورا کرنا یوٹی کے بجلی نظام کے لیے ایک اہم چیلنج بنا ہوا ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ مئی میں غیر شمسی اوقات کے دوران 40 میگاواٹ کا فرق سامنے آیا، تاہم جون میں دن اور غیر شمسی دونوں اوقات میں زیادہ سے زیادہ طلب پوری کی گئی۔










