2 منیجنگ ڈائریکٹر بھی شامل،انجینئروں کا مستقل تقرریوں میں تاخیر پر تشویش ظاہر
سرینگر// جموں و کشمیر کے بجلی کے شعبے میں اعلیٰ سطح کی اہم اسامیوں کی طویل عرصے سے عدم تکمیل کے باعث انتظامی امور، فیصلہ سازی اور ترقیاتی منصوبوں پر اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔انجینئروں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ بجلی اور اس کے ماتحت کارپوریشنوں میں تمام کلیدی عہدوں پر مستقل بنیادوں پر جلد تقرریاں عمل میں لائی جائیں۔یو این ایس کے مطابق ذرائع کے مطابق محکمہ بجلی اور اس کی جانشین کارپوریشنوں میں اس وقت کم از کم 8 اعلیٰ سطح کی اسامیاں خالی ہیں، جن میں 2 منیجنگ ڈائریکٹر، ایک جوائنٹ منیجنگ ڈائریکٹر، 4 ایگزیکٹو ڈائریکٹر (الیکٹریکل) اور سیکریٹری (ٹیکنیکل) کا ایک عہدہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ سپرنٹنڈنگ انجینئر، ایگزیکٹو انجینئر، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر اور اسسٹنٹ انجینئر کے متعدد عہدے بھی خالی پڑے ہیں۔ ذرائع نے نشاندہی کی کہ جموں و کشمیر پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ اور جموں و کشمیر پاور کارپوریشن لمیٹڈ میں منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے کافی عرصے سے یا تو خالی ہیں یا اضافی چارج کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں، جبکہ چناب ویلی پاور پروجیکٹس لمیٹڈ میں جوائنٹ منیجنگ ڈائریکٹر کی اسامی بھی تاحال پْر نہیں کی گئی۔اسی طرح محکمہ بجلی کی تنظیم نو کے بعد کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن جموں و کشمیر پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن اور جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں قائم کیے گئے چاروں ایگزیکٹو ڈائریکٹر (الیکٹریکل) کے عہدے بھی مستقل طور پر پْر نہیں کیے گئے، حالانکہ ان کا مقصد نئی کارپوریشنوں کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور ان کی کارکردگی کو بہتر بنانا تھا۔ایسوسی ایشن کے صدر پیرزادہ ہدایت اللہ نے کہا، ’’بجلی پیدا کرنے، ترسیل اور تقسیم سے متعلق اداروں میں اعلیٰ سطحی قیادت کی عدم موجودگی بروقت فیصلہ سازی، ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد اور ادارہ جاتی جوابدہی کو متاثر کر رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق جب اہم عہدے مستقل تقرریوں کے بجائے اضافی چارج کے ذریعے چلائے جائیں تو اس کا براہ راست اثر انتظامی اور تکنیکی کارکردگی پر پڑتا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف اعلیٰ انتظامی عہدوں تک محدود نہیں بلکہ انجینئرنگ کیڈر کے مختلف درجات میں بھی افرادی قوت کی کمی ہے، جس کے باعث موجودہ افسران پر اضافی ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور روزمرہ کے تکنیکی و انتظامی معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔پیرزادہ ہدایت اللہ کے مطابق اس وقت جموں و کشمیر کا بجلی کا شعبہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری، لائن لاسز میں کمی، ترسیلی نظام کی مضبوطی اور مختلف اصلاحاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے، ایسے میں مؤثر اور مستقل قیادت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جن کے پاس محکمہ بجلی کا قلمدان بھی ہے، سے اپیل کی کہ وہ ذاتی مداخلت کرتے ہوئے تمام خالی کلیدی عہدوں پر جلد مستقل تقرریاں یقینی بنائیں تاکہ بجلی کے شعبے میں ادارہ جاتی نظم و نسق، جوابدہی اور مجموعی کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔










