دبجھن شوپیاںکے سرسبز مرغزار پلاسٹک کچرے کی زد میں

پلاسٹک آلودگی سے ماحول اور چشمہ خطرے میں، سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی کا مطالبہ

سرینگر// تاریخی مغل روڈ پر واقع خوبصورت سیاحتی مقام دبجھن، جو اپنے وسیع و عریض سبزہ زار اور شفا بخش خصوصیات کے حامل قدرتی چشمے کے لیے مشہور ہے، ان دنوں پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے کچرے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی کا شکار بنتا جا رہا ہے۔ سیاحوں کی جانب سے پھینکی گئی پولی تھین، پلاسٹک کی بوتلیں، کھانے کے خالی پیکٹ اور دیگر فضلہ مرغزاروں میں بکھرا پڑا ہے، جس سے علاقے کا قدرتی حسن متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اس نازک ماحولیاتی نظام کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔یو این ایس کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈبجن جنوبی کشمیر کے ابھرتے ہوئے سیاحتی مقامات میں شامل ہو چکا ہے۔ ضلع انتظامیہ اور محکمہ سیاحت نے بھی اس مقام کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ رواں سال فروری میں ضلع انتظامیہ نے محکمہ سیاحت کے اشتراک سے دبجن ونٹر کارنیوال کا انعقاد کیا تھا، جس کے بعد یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔تاہم مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد کے ساتھ ساتھ صفائی کا مسئلہ بھی سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ مقامی باشندے طارق احمد نے کہا کہ ونٹر کارنیوال سے علاقے کی معیشت کو فائدہ ضرور پہنچا، لیکن بڑی تعداد میں آنے والے سیاح پکنک کے بعد پلاسٹک کی بوتلیں، کھانے کے پیکٹ اور دیگر کچرا یہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، جبکہ اس فضلے کو باقاعدگی سے اٹھانے کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں۔صرف ڈبجن ہی نہیں بلکہ مغل روڈ پر واقع بوہری ہالان پارک بھی پلاسٹک آلودگی کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جہاں جگہ جگہ پلاسٹک کی بوتلیں، ریپر اور دیگر کچرا بکھرا ہوا نظر آتا ہے۔سول سوسائٹی نے کہا کہ ہفتہ وار تعطیلات اور سرکاری چھٹیوں کے دوران جب سینکڑوں سیاح ان مقامات کا رخ کرتے ہیں تو پلاسٹک کا کچرا کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس مسئلے پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف ڈبجن کا نازک ماحولیاتی نظام متاثر ہوگا بلکہ یہ مقام اپنی قدرتی کشش بھی کھو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں پلاسٹک کا فضلہ ماحول کے لیے سنگین خطرہ بن جاتا ہے کیونکہ یہاں کچرے کو جمع کرنے اور ٹھکانے لگانے کا مناسب نظام موجود نہیں۔ ان کے مطابق پلاسٹک نہ صرف قدرتی مناظر کو خراب کرتا ہے بلکہ آبی ذخائر کو آلودہ، جنگلی حیات کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کے گلنے سڑنے میں کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈبجن اور بوہری ہالان سمیت تمام اہم سیاحتی مقامات پر مناسب تعداد میں ڈسٹ بن نصب کیے جائیں، روزانہ کی بنیاد پر کچرا اٹھانے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور سیاحوں میں صفائی کے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کے لیے خصوصی مہم چلائی جائے۔ انہوں نے پلاسٹک پھینکنے والوں کے خلاف جرمانے اور سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔