ملزم کو عدالتی تحویل میں طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں// پرنسپل سیشن کورٹ
سرینگر//جموں کی پرنسپل سیشن کورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر مبینہ قاتلانہ حملے کے مقدمے میں گرفتار ملزم کمل سنگھ کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ الزامات کی سنگینی، امن و امان پر ممکنہ اثرات اور ملزم کی جانب سے دوبارہ جرم کے ارتکاب کے خدشے کے پیش نظر اسے ضمانت نہیں دی جا سکتی۔یو این ایس کے مطابق پرنسپل سیشنز جج آر این واتل نے جمعہ کو سنائے گئے حکم میں پولیس اسٹیشن گنگیال، جموں میں درج ایف آئی آر نمبر 29/2026 کے سلسلے میں دائر ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 109 اور آرمز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت درج ہے۔دوران سماعت ملزم کے وکیل پرنس کھنہ نے موقف اختیار کیا کہ کمل سنگھ بے قصور ہے، عمر رسیدہ ہے اور اعصابی و نفسیاتی عوارض سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہے۔ دفاع کا کہنا تھا کہ ملزم کا ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ وہ شادی کی تقریب کے دوران ان کے ساتھ تصویر بنوانا چاہتا تھا۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات تقریباً مکمل ہو چکی ہیں، اس لیے ملزم کو ضمانت دی جانی چاہیے۔سرکاری وکیل ہیمانشو پرکاش نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ یہ ایک نہایت سنگین اور سیاسی نوعیت کا مقدمہ ہے۔ ان کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش مبینہ طور پر کہا تھا کہ اگر دوبارہ موقع ملا تو وہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو قتل کرنے کی کوشش کرے گا، اور اسے اپنے عمل پر کسی قسم کا افسوس بھی نہیں ہے۔استغاثہ کے مطابق 11 مارچ 2026 کو جموں کے گریٹر کیلاش میں واقع رائل پارک میں ایک شادی کی تقریب کے دوران، جہاں ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری موجود تھے، ملزم نے مبینہ طور پر ریوالور سے ڈاکٹر عبداللہ پر فائرنگ کی، تاہم گولی اپنے ہدف سے چوک گئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے اسلحہ، زندہ کارتوس، خول اور دیگر شواہد برآمد کیے، جبکہ بعد ازاں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کیں۔یو این ایس کے مطابق تحقیقات کے دوران استغاثہ نے عدالت میں فرانزک رپورٹ اور بعض تحریری نوٹس بھی پیش کیے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ ملزم نے تحریر کیے تھے اور ان میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف دیرینہ ناراضی اور نفرت کا اظہار کیا گیا تھا۔ فرانزک جانچ میں ان تحریروں کو مبینہ طور پر ملزم سے منسوب کیا گیا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ عوامی شخصیات پر حملے جیسے مقدمات صرف ایک فرد کے خلاف جرم نہیں ہوتے بلکہ ان کے امن عامہ، جمہوری نظام اور قانون کی حکمرانی پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ فرد کی آزادی اور معاشرے کے وسیع تر مفاد کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ملزم کی ذہنی بیماری یا دیگر طبی مسائل کے حق میں کوئی ایسا قابلِ اعتماد طبی ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر ضمانت دی جا سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کو عدالتی تحویل کے دوران تمام ضروری طبی اور نفسیاتی علاج فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ قانونی طور پر ذہنی حالت کا فیصلہ مقدمے کی سماعت کے دوران شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ان تمام وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس حکم میں دیے گئے مشاہدات صرف ضمانت کی درخواست کے فیصلے تک محدود ہیں اور مقدمے کی اصل سماعت پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔










