2022 کے منشیات و دہشت گردی مالی معاونت کیس کی سماعت شروع ہوگی
سرینگر//جموں و کشمیر میں منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے دہشت گردی کی مبینہ مالی معاونت سے متعلق ایک اہم مقدمے میں خصوصی این آئی اے عدالت نے اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی کی تحقیقات کی بنیاد پر دس دستیاب ملزمان کے خلاف فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ عدالت کے اس حکم کے بعد مقدمہ باقاعدہ ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور استغاثہ کے شواہد قلم بند کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق ریاستی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق یہ مقدمہ اکتوبر 2022 میں پولیس اسٹیشن ایس آئی اے کشمیر میں ایف آئی آر نمبر 19/2022 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شروع کی گئی تحقیقات میں ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک کا پتہ چلا جو سرحد پار سے جموں و کشمیر میں منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے میں ملوث تھا۔تحقیقات کے دوران ایس آئی اے نے دعویٰ کیا کہ منشیات کو لائن آف کنٹرول کے راستے جموں و کشمیر پہنچایا جاتا تھا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت، دہشت گرد نیٹ ورک کو برقرار رکھنے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ایجنسی کے مطابق اس مبینہ سازش میں مجموعی طور پر 16 افراد کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا، جن میں 4 مبینہ ہینڈلرز پاکستان یا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود ہیں۔ اب تک10ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ ایک مقامی ملزم اور 4 سرحد پار موجود ملزمان مفرور ہیں۔ ایک ملزم، مشتاق احمد ملک عرف راہی، پہلے ہی ایک تصادم میں ہلاک ہو چکا ہے۔ایس آئی اے نے بتایا کہ تمام 16 ملزمان کے خلاف مجموعی طور پر چھ تفصیلی چارج شیٹس عدالت میں پیش کی جا چکی ہیں، جبکہ کارروائی کے دوران تین اشتہاری ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا۔خصوصی این آئی اے عدالت نے استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد گرفتار دس ملزمان کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت فردِ جرم عائد کی ہے۔ الزامات میں دہشت گردی، دہشت گرد تنظیموں کے لیے مالی وسائل جمع کرنا، مجرمانہ سازش، حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش، کالعدم تنظیموں کی معاونت، جعلسازی اور شواہد ضائع کرنے جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔یو این ایس کے مطابق ایس آئی اے نے کہا کہ فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مقدمہ ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور اب عدالت میں استغاثہ کے گواہوں اور دیگر شواہد کو ریکارڈ کیا جائے گا، جس کے بعد ٹرائل آگے بڑھایا جائے گا۔تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موجود مفرور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ دہشت گردی سے منسلک مبینہ جائیدادوں کی ضبطی اور قرقی کے لیے بھی یو اے پی اے کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ایس آئی اے نے اپنے بیان میں کہا کہ اس مقدمے میں فردِ جرم عائد ہونا منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کی مبینہ مالی معاونت کے درمیان روابط توڑنے کی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے اور ایسے تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔










