جنوب تا شمال منشیات کے کاروبار سے حاصل اثاثوں کے خلاف پولیس کارروائیاں جاری
سرینگر// نشہ مکتی بھارت ابھیان مہم کے تحت منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری کارروائیوں میں سری نگر پولیس نے نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکو ٹروپک سبسٹینسز (ایکٹ 1985 کی دفعہ 68 ایف کے تحت 3 کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی چار غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی پولیس اسٹیشن صفاکدل نے مختلف این ڈی پی ایس مقدمات کی تفتیش کے دوران انجام دی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ضبط کی گئی جائیدادیں منشیات اور نفسیاتی ادویات کی غیر قانونی تجارت سے حاصل شدہ آمدنی سے بنائی گئی تھیں۔یو این ایس کے مطابق ضبط شدہ املاک میں نواکدل کے براری پورہ علاقے میں واقع آبادی دہہ زمین پر تعمیر شدہ تین منزلہ رہائشی مکان شامل ہے، جس کی مالیت تقریباً ایک کروڑ 19 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ یہ جائیداد عدنان لطیف شیخ ولد مرحوم محمد لطیف شیخ کی ملکیت ہے، جو پولیس اسٹیشن صفاکدل میں درج ایف آئی آر نمبر 74/2026 کے تحت این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعہ 8/22 کے مقدمے میں نامزد ملزم ہے۔اسی طرح نورباغ کے پالپورہ علاقے میں سات مرلہ اور 50 مربع فٹ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ رہائشی مکان، جس کی مالیت تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ روپے ہے، بھی ضبط کیا گیا۔ یہ جائیداد دانیال احمد بساتی ولد اعجاز احمد بساتی کی ملکیت ہے، جو ایف آئی آر نمبر 24/2025 میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/20 اور 29 کے تحت ملزم ہے۔پولیس نے قمر واری کے برتھانہ علاقے میں ساڑھے چار مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ دو منزلہ رہائشی مکان بھی ضبط کیا، جس کی مالیت 71 لاکھ 31 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ یہ مکان شاہد گل ولد غلام محمد شیخ کی ملکیت ہے، جو ایف آئی آر نمبر 48/2026 کے تحت دفعہ 8/20 میں نامزد ہے۔یو این ایس کے مطابق اس کے علاوہ گوری پورہ میں تین مرلہ اراضی پر تعمیر شدہ ایک منزلہ مکان، جس کی مالیت تقریباً 25 لاکھ روپے ہے، بھی ضبط کیا گیا۔ یہ جائیداد عادل احمد میر ولد محمد سلطان میر، ساکن پالپورہ، سری نگر کی ملکیت ہے، جو ایف آئی آر نمبر 62/2025 میں این ڈی پی ایس ایکٹ کی دفعات 8/21 اور 29 کے تحت ملزم ہے۔پولیس نے تمام ملزمان کو ضبطی کے احکامات کی نقول فراہم کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر ان جائیدادوں کو فروخت، لیز، رہن یا کسی بھی صورت میں منتقل نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان پر کسی تیسرے فریق کا حق قائم کیا جا سکتا ہے۔سری نگر پولیس نے کہا کہ یہ کارروائی منشیات کے نیٹ ورک کی مالی بنیادوں کو ختم کرنے کی مہم کا حصہ ہے اور مستقبل میں بھی منشیات فروشوں کے خلاف اسی طرح کی سخت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ یا فروخت سے متعلق کسی بھی اطلاع کو قریبی پولیس اسٹیشن یا پولیس ہیلپ لائن کے ذریعے فوری طور پر فراہم کریں تاکہ معاشرے کو منشیات سے پاک بنانے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔یو این ایس کے مطابق ضلع انتظامیہ نے پولیس کے اشتراک سے منشیات کے کاروبار کے خلاف جاری مہم کے تحت مبینہ منشیات فروشوں سے منسلک چار غیر قانونی جائیدادوں کو مسمار کر دیا۔سرکاری حکام کے مطابق یہ کارروائی جمعہ کو خانصاحب سب ڈویڑن کے پرنیوا اور آری گام علاقوں میں ریونیو اور پولیس حکام کی موجودگی میں انجام دی گئی۔نتظامیہ کے مطابق مسماری مہم کے دوران تین غیر قانونی ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا، جن میں مجموعی طور پر چار دکانیں، ایک گاؤشالہ اور ایک ٹائل فیکٹری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ املاک مبینہ طور پر منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد سے وابستہ تھیں، جنہیں انسدادِ منشیات مہم کے تحت نشانہ بنایا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ یہ کارروائی منشیات کے کاروبار سے منسلک غیر قانونی اثاثوں کے خلاف وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایسے اثاثوں کو ختم کرنا اور ضلع میں منشیات کی لعنت کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔انتظامیہ نے واضح کیا کہ بڈگام میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں آئندہ بھی پولیس کے اشتراک سے جاری رہیں گی تاکہ منشیات کے نیٹ ورک کو جڑ سے ختم کیا جا سکے اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھا جا سکے۔










