پرتاپ پارک اپنی رونق کھو بیٹھا، دیکھ بھال نہ ہونے سے شہری اور سیاح مایوس

پرتاپ پارک اپنی رونق کھو بیٹھا، دیکھ بھال نہ ہونے سے شہری اور سیاح مایوس

ٹوٹا ہوا فوارہ، گندگی، آوارہ کتوں اور بنیادی سہولیات کی کمی پرسیاحوں کا اظہارِ تشویش

ِ سرینگر// سرینگر کے قلب میں واقع تاریخی پرتاپ پارک مناسب دیکھ بھال اور باقاعدہ نگہداشت کے فقدان کے باعث اپنی سابقہ رونق کھوتا جا رہا ہے۔ شہر کے مصروف تجارتی مرکز لال چوک کے قریب واقع یہ پارک برسوں سے مقامی شہریوں، سیاحوں اور خاندانوں کے لیے تفریح اور آرام کا ایک اہم مقام رہا ہے، تاہم موجودہ صورتحال نے اس کی خوبصورتی اور افادیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق پارک کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ اس کے وسط میں واقع بڑا فوارہ مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے۔ فوارے میں جمع بدبودار ٹھہرا ہوا پانی، کچرے کے ڈھیر اور صفائی کے ناقص انتظامات پارک کی خوبصورتی کو گہنا رہے ہیں اور آنے والے سیاحوں پر منفی تاثر چھوڑ رہے ہیں۔اتراکھنڈسے تعلق رکھنے والے سیاح راجیونے پارک کی خستہ حالی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے مرکزی حصے میں واقع اتنے اہم عوامی مقام کی اس حالت میں دیکھ بھال نہ ہونا مایوس کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صفائی اور تزئین و آرائش پر توجہ دی جائے تو یہ پارک نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ بیرونِ ریاست سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام بن سکتا ہے۔ممبئی سے آئے ایک اور خاتون سیاح اروشی نے کہا کہ پارک میں موجود پودوں، جھاڑیوں اور سبزہ زار کی باقاعدہ تراش خراش اور دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بے ترتیب اور حد سے زیادہ بڑھی ہوئی جھاڑیاں پارک کی مجموعی خوبصورتی کو متاثر کر رہی ہیں اور اس کی دلکشی میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔پارک میں موجود مقامی شہریوں کے ایک گروپ نے مطالبہ کیا کہ بچوں کے لیے الگ کھیل کا میدان قائم کیا جائے جہاں جھولے، سلائیڈز اور دیگر تفریحی سہولیات دستیاب ہوں تاکہ خاندان اپنے بچوں کے ساتھ بہتر انداز میں وقت گزار سکیں۔یو این ایس کے مطابق شہریوں نے پارک کی حفاظتی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ داخلی دروازے مسلسل کھلے رہنے کی وجہ سے چھوٹے بچے آسانی سے باہر مصروف سڑک پر جا سکتے ہیں، جس سے کسی بھی وقت حادثہ پیش آنے کا خدشہ رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارک میں نگرانی کے لیے مناسب عملہ بھی تعینات نہیں ہے۔انہوں نے آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو بھی سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ درجنوں آوارہ کتے پارک میں آزادانہ گھومتے رہتے ہیں، جس سے خواتین، بچوں اور بزرگ شہریوں میں خوف پایا جاتا ہے۔سیاحوںنے پارک میں کچرا دانوں کی کمی پر بھی ناراضی ظاہر کی۔ ان کے مطابق مناسب تعداد میں ڈسٹ بن موجود نہ ہونے کی وجہ سے لوگ مجبوری میں کچرا پارک کے مختلف حصوں میں پھینک دیتے ہیں، جس سے صفائی کی صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔خواتین سیاحوںنے پارک میں بیت الخلا کی سہولت نہ ہونے کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث خاندانوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یو این ایس کے مطابق شام کے اوقات میں روشنی کے ناقص انتظامات بھی شہریوں کی شکایات میں شامل رہے۔ ایک مقامی خاندان نے بتایا کہ وہ شام کے وقت پارک میں وقت گزارنا چاہتے ہیں، مگر مناسب روشنی نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرا چھا جاتا ہے، جس کے باعث پارک میں رکنا مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے پارک کے گرد لگی پرانی حفاظتی باڑ (فینسنگ) کی فوری مرمت یا تبدیلی کا بھی مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی مقامات پر باڑ ٹوٹ چکی ہے، جس سے نہ صرف پارک کی خوبصورتی متاثر ہوئی ہے بلکہ حفاظتی خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔اس سلسلے میں فلوریکلچر محکمہ کے افیسرنے کہا کہ پارک سے متعلق سامنے آنے والے تمام مسائل کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ فوارے کی تکنیکی جانچ کرائے گا اور جو بھی حقیقی مسائل محکمہ کے نوٹس میں لائے گئے ہیں، انہیں مرحلہ وار حل کیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ پرتاپ پارک میں موجود ریستوران کا سابقہ ٹھیکہ ختم ہو چکا ہے اور محکمہ اس سہولت کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے جلد نئے ٹینڈر جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ آنے والے سیاحوں اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔شہریوں اور سیاحوں نے حکومت اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ پرتاپ پارک کی فوری تزئین و آرائش، صفائی، روشنی، حفاظتی انتظامات، بچوں کے کھیل کے میدان، بیت الخلا، کچرا دانوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہر کا یہ تاریخی اور اہم عوامی مقام دوبارہ اپنی سابقہ رونق حاصل کر سکے۔