پوشنار دودی پورہ، شمالی کشمیر کا خوبصورت مگر نظرانداز سیاحتی خزانہ

پوشنار دودی پورہ، شمالی کشمیر کا خوبصورت مگر نظرانداز سیاحتی خزانہ

راجوار کے جنگلات میں چھپی جنت، بنیادی سہولیات نہ ہونے سے سیاحتی امکانات محدود

سرینگر// شمالی کشمیر کے ضلع کپوارہ میں ہندواڑہ سے تقریباً 7 کلومیٹر دور راجوار،ماگام کے سرسبز جنگلات میں واقع پوشنار دودی پورہ اپنی دلکش قدرتی خوبصورتی، گھنے دیودار اور الپائن جنگلات، پْرسکون جھیل اور وسیع سبزہ زاروں کے باوجود اب بھی سیاحتی نقشے پر مناسب مقام حاصل نہیں کر سکا۔ مقامی آبادی اور سیاحوں کا کہنا ہے کہ اگر اس علاقے کو بنیادی سہولیات اور سرکاری سرپرستی فراہم کی جائے تو یہ شمالی کشمیر کا ایک نمایاں ماحولیاتی سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق قدرتی حسن سے مالا مال یہ علاقہ طویل عرصے سے بھیڑ بانی اور مویشی پروری کے لیے جانا جاتا ہے، جہاں محکمہ شیپ ہسبنڈری کے اہم مراکز بھی قائم ہیں۔ تاہم سیاحتی اعتبار سے اس کی صلاحیتوں سے اب تک خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا، جس کے باعث یہ مقام زیادہ تر مقامی لوگوں تک ہی محدود ہے۔حال ہی میں بارہمولہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سیاحوں کے ایک گروپ نے پوشنار میں رات خیموں میں گزار کر اس مقام کو فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک منفرد تجربہ قرار دیا۔ اولڈ ٹاؤن بارہمولہ کے محمد شفیع نے بتایا کہ دوستوں سے اس مقام کے بارے میں سننے کے بعد وہ یہاں پہنچے اور قدرتی مناظر نے انہیں بے حد متاثر کیا، تاہم یہاں تک پہنچنا آسان نہیں تھا کیونکہ یہ مقام نہ تو گوگل میپس پر واضح طور پر موجود ہے اور نہ ہی اسے سرکاری سطح پر سیاحتی مقام کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔مقامی باشندوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سیاحت سے مطالبہ کیا ہے کہ پوشنار دودی پورہ کو باضابطہ طور پر سیاحتی مقام قرار دے کر یہاں بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ پینے کے صاف پانی، عوامی بیت الخلاؤں، سیاحتی جھونپڑیوں (ٹورسٹ ہٹس)، بہتر رابطہ سڑکوں، رہنمائی کے سائن بورڈز اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی سے نہ صرف سیاحوں کو سہولت ملے گی بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔یو این ایس کے مطابق مقامی رہائشی ظہور احمد نے بتایا کہ دیہی ترقیاتی محکمہ کی جانب سے علاقے میں دو سیاحتی جھونپڑیوں کی منظوری دی جا چکی ہے، لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود تعمیراتی کام شروع نہیں ہو سکا، جس پر مقامی لوگوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔سیاحوں نے موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔ مگام ہندواڑہ سے تعلق رکھنے والے سیاح شیخ جمشید نے کہا کہ رات گزارنے والے سیاحوں کے لیے موبائل سگنل نہ ہونا مشکلات پیدا کرتا ہے، اس لیے انتظامیہ کو بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ موبائل رابطے کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔سیاحت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں روایتی سیاحتی مقامات پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایسے نئے اور قدرتی مقامات کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق پوشنار دودی پورہ اپنی قدرتی خوبصورتی، پْرسکون ماحول، جنگلات، جھیل اور سرسبز چراگاہوں کی بدولت ایکو ٹورازم، کیمپنگ، ٹریکنگ اور ایڈونچر ٹورازم کے لیے مثالی مقام بن سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت بروقت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، تشہیر اور رابطہ سہولیات پر توجہ دے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر پوشنار دودی پورہ کو سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام دیا جائے تو اس سے نہ صرف علاقے کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ شمالی کشمیر میں سیاحت کے نئے مراکز بھی فروغ پائیں گے۔