کشمیر کی سیاحت کا بدلتا چہرہ

مہنگے غیر ملکی سیاحوں کی جگہ بجٹ سیلانیوں کا غلبہ

سرینگر//کشمیر کی سیاحت گزشتہ چند برسوں میں نمایاں تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب وادی غیر ملکی، اعلیٰ آمدنی والے اور ثقافت میں دلچسپی رکھنے والے سیاحوں کی پسندیدہ منزل سمجھی جاتی تھی، لیکن اب ان کی جگہ بڑی تعداد میں ایسے ملکی سیاحوں نے لے لی ہے جو محدود بجٹ میں زیادہ سے زیادہ مقامات دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی نے سیاحتی صنعت کی نوعیت، مقامی معیشت اور بنیادی ڈھانچے پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔یو این ایس کے مطابق سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ وادی میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم فی سیاح خرچ ہونے والی رقم، قیام کی مدت اور مقامی معیشت کو حاصل ہونے والا فائدہ پہلے کے مقابلے میں کم ہو گیا ہے۔ زیادہ تر سیاح تین یا چار روز میں اپنی سیر مکمل کر کے واپس لوٹ جاتے ہیں، جبکہ ماضی میں سیاح ایک سے دو ہفتے تک کشمیر میں قیام کرتے تھے۔ ٹور آپریٹرز کے مطابق 2025 کے پہلگام حملے کے بعد اعلیٰ آمدنی والے اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد متاثر ہوئی، جبکہ اب پنجاب، ہریانہ، دہلی اور دیگر شمالی ریاستوں سے بڑی تعداد میں خاندان اپنی ذاتی گاڑیوں پر کشمیر پہنچ رہے ہیں۔ اندازاً ہر پانچ میں سے ایک یا چار میں سے ایک سیاح اپنی نجی گاڑی استعمال کرتا ہے، جس کے باعث شاہراہوں اور سیاحتی مقامات پر ٹریفک کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ گیا ہے۔پہلگام، گلمرگ، سونہ مرگ اور سری نگر کے ڈل جھیل علاقے میں روزانہ طویل ٹریفک جام معمول بنتے جا رہے ہیں۔ سیاحوں اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ چند کلومیٹر کا سفر طے کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں، جس سے نہ صرف سیاحوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ مقامی آبادی بھی شدید مشکلات سے دوچار ہوتی ہے۔یو این ایس کے مطابق سیاحتی صنعت سے وابستہ کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاح زیادہ تر کم خرچ میں زیادہ سہولیات چاہتے ہیں۔ وہ چار ستارہ معیار کی رہائش، معیاری کھانے اور کم قیمت پیکیج کی توقع رکھتے ہیں، جس سے ہوٹل مالکان اور ٹور آپریٹرز پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ماہرین کے مطابق کشمیر کی سب سے بڑی کمزوری بنیادی ڈھانچے کی محدود استعداد ہے۔ سڑکوں کی خستہ حالی، ڈل جھیل کے اطراف مستقل ٹریفک جام، عوامی بیت الخلاؤں کی ناقص حالت، پارکنگ کی کمی اور تشہیری مراکز پر بنیادی سہولیات کا فقدان سیاحتی تجربے کو متاثر کر رہا ہے۔سابق ڈائریکر جنرل سیاحت کا کہنا ہے کہ کشمیر میں سیاحوں کی تعداد بڑھنے سے زیادہ اہم بات ان کے معیار، قیام کی مدت اور تجربے کو بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں ثقافتی اور تجرباتی سیاحت کو فروغ دیا جا رہا ہے، لیکن کشمیر میں اب بھی سیاحت چند معروف مقامات تک محدود ہے، جبکہ دیہی، ثقافتی اور ورثہ سیاحت کی بے پناہ صلاحیتیں استعمال نہیں ہو سکیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاح قدرتی مناظر کے ساتھ ساتھ مقامی تہذیب، رہن سہن، روایتی کھانوں، دستکاری، تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد مختصر وقت میں صرف مشہور مقامات دیکھنے اور تصویریں لینے پر توجہ دیتی ہے۔ہاؤس بوٹ مالکان کا بھی کہنا ہے کہ سیاحوں کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔ پہلے غیر ملکی سیاح کئی ہفتوں تک ہاؤس بوٹس میں قیام کرتے تھے، مگر اب زیادہ تر سیاح ایک یا دو راتیں گزار کر گلمرگ، پہلگام اور سونہ مرگ کا رخ کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ جدید ہوٹلوں جیسی سہولیات کی توقع رکھتے ہیں، جن کی فراہمی روایتی ہاؤس بوٹس کے لیے آسان نہیں۔سیاحت سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ کشمیر کی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی ورثہ اور مہمان نوازی آج بھی اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں، تاہم اگر بنیادی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط نہ کیا گیا، ٹریفک کے مسئلے پر قابو نہ پایا گیا، عوامی سہولیات میں بہتری نہ لائی گئی اور ثقافتی و دیہی سیاحت کو فروغ نہ دیا گیا تو صرف سیاحوں کی تعداد میں اضافہ وادی کی سیاحت کو پائیدار ترقی نہیں دے سکے گا۔ان کا کہنا ہے کہ مستقبل کی کامیاب سیاحت کا انحصار صرف زیادہ سیاح لانے پر نہیں بلکہ بہتر تجربہ، اعلیٰ خدمات، طویل قیام اور مقامی معیشت کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے والی پالیسیوں پر ہوگا۔