2دہائیوں میں جموں و کشمیر کا درجہ حرارت تقریباً ایک ڈگری بڑھ گیا

پہاڑی علاقوں میں تیز رفتار حدت سے گلیشیئر، آبی وسائل اور ماحولیاتی نظام کو خطرہ

سرینگر// ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر کے بلند و بالا علاقوں کا درجہ حرارت تقریباً ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ چکا ہے، جبکہ ہمالیائی خطے کے پہاڑی علاقے میدانی علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ رجحان گلیشیئروں، برفانی ذخائر، دریاؤں، آبی وسائل اور پورے ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔یہ تحقیق، جو بین الاقوامی سائنسی جریدے سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئی ہے، “1980 سے 2024 کے دوران موسمیاتی حساس جموں و کشمیر کے بلند پہاڑی علاقوں میں حدت میں اضافہ کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے۔ اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہمالیائی خطے میں درجہ حرارت یکساں رفتار سے نہیں بڑھ رہا بلکہ بلند علاقوں میں اس کی شدت کہیں زیادہ ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ تحقیق انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کھڑگ پور کے سینٹر فار اوشن، ریور، ایٹماسفیئر اینڈ لینڈ سائنسز (کورل) سے وابستہ پروفیسر جیانارائنن کٹّی پوراتھ، جی ایس گوپی کرشنن اور وی ایم پرنو چندرن نے انجام دیا۔ محققین نے 1980 سے 2024 تک کے زمینی موسمیاتی مشاہدات اور فضائی اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیا۔تحقیق کے مطابق بھدرواہ، پہلگام اور گلمرگ جیسے بلند مقامات پر درجہ حرارت میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ نسبتاً کم بلندی والے علاقوں، خصوصاً جموں، میں یہ اضافہ محدود یا کم نمایاں رہا۔ محققین نے اس رجحان کو بلندی کے لحاظ سے حدت میں اضافہ” قرار دیا ہے۔تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ دن کے مقابلے میں رات کے کم سے کم درجہ حرارت میں کہیں زیادہ تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً پری مون سون موسم کے دوران۔ ماہرین کے مطابق گرم راتیں قدرتی ٹھنڈک کے عمل کو کمزور کرتی ہیں، برف اور گلیشیئروں کے پگھلنے کی رفتار بڑھاتی ہیں اور پہاڑی علاقوں کے آبی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔یو این ایس کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق بعض درمیانی بلندی والے علاقوں میں سالانہ اوسط درجہ حرارت میں ہر دہائی تقریباً 0.3 ڈگری سینٹی گریڈ** اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پری مون سون کے دوران رات کے درجہ حرارت میں ہر دہائی 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ دیکھا گیا۔تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر جیانارائنن کٹّی پوراتھ نے کہا کہ ہمالیہ دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے سب سے زیادہ حساس ہیں، اور تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ بلند پہاڑی علاقوں میں حدت کا عمل انتہائی تیزی سے جاری ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ پہاڑی علاقوں میں بڑھتی ہوئی گرمی گلیشیئروں، موسمی برف، میٹھے پانی کی دستیابی اور ماحولیاتی توازن کے لیے سنگین خطرہ بن رہی ہے، جس کے اثرات صرف ہمالیہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ شمالی ہندوستان کے وسیع علاقوں کو بھی متاثر کریں گے۔تحقیق کے شریک مصنفجی ایس گوپی کرشنن نے کہا کہ رات کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے سے برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھلتے ہیں، دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی آتی ہے اور مستقبل میں سیلاب، خشک سالی اور دیگر موسمیاتی آفات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔محققین کے مطابق اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو ہمالیائی گلیشیئر مزید تیزی سے سکڑ سکتے ہیں، برف کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں، دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں تبدیلی آ سکتی ہے اور ان لاکھوں افراد کا روزگار اور آبی تحفظ متاثر ہو سکتا ہے جو ہمالیائی آبی وسائل پر انحصار کرتے ہیں۔تحقیق میں حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے، سائنسی مشاہدات کا دائرہ وسیع کیا جائے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اور آفات سے بچاؤ کی پالیسیاں تیار کی جائیں تاکہ دنیا کے اس نہایت حساس ماحولیاتی خطے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔