سرینگر میں 200 روپے فی کلو تک، صارفین کا سرکاری مداخلت کا مطالبہ
سرینگر//کشمیر میں مٹن کی قیمتوں اور حالیہ سپلائی بحران کے بعد اب مرغ بھی عام صارف کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ سری نگر کے مختلف بازاروں میں مرغ کی قیمت 180 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ صارفین نے حکومت سے فوری مداخلت کرتے ہوئے مرغ کی قیمتوں کو منظم کرنے اور یکساں نرخ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق شہریوں کا کہنا ہے کہ مرغ ہمیشہ مٹن کا نسبتاً سستا متبادل سمجھا جاتا تھا، لیکن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی موجودہ لہر میں مرغ جیسی بنیادی غذائی شے بھی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ شہر کے راجباغ،جواہرنگر،سونہ وار،ڈلگیٹ نوہٹہ، حضرت بل، خانیار، ڈاؤن ٹاؤن اور دیگر علاقوں کے رہائشیوں نے شکایت کی کہ مختلف دکانوں پر مرغ الگ الگ نرخوں پر فروخت کیا جا رہا ہے اور قیمتوں پر نظر رکھنے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔ ان کے مطابق کہیں مرغ 180 روپے فی کلو جبکہ کہیں 190 یا 200 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے، جس سے صارفین استحصال کا شکار ہیں۔مہجور نگرکے رہائشی نیاض حمد نے کہا کہ جب مٹن مہنگا ہوتا تھا تو لوگ مرغ خرید لیتے تھے، مگر اب مرغ بھی اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ متوسط طبقے کے لیے اسے خریدنا مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری معاشرے میں غیر نباتاتی غذا روزمرہ زندگی کا حصہ ہے اور بیشتر خاندان پروٹین کے لیے مرغ پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران رشتہ داروں کی آمدورفت بڑھ جاتی ہے اور مہمانوں کی تواضع کے لیے مرغ ایک عام انتخاب ہوتا تھا، لیکن موجودہ قیمتوں نے یہ بھی مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق بیماری سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کو بھی اکثر چکن سوپ تجویز کیا جاتا ہے، مگر اب بہت سے خاندان اسے خریدنے سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور ہیں۔یو این ایس کے مطابق دوسری جانب پولٹری فروشوں کا کہنا ہے کہ وہ بھی بڑھتی ہوئی تھوک قیمتوں کی وجہ سے پریشان ہیں۔ حضرت بل کے ایک دکاندار کے مطابق ہول سیل مارکیٹ سے مرغ پہلے کے مقابلے میں زیادہ نرخوں پر مل رہا ہے، جس کے باعث پرچون فروش بھی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مٹن کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد مرغ کی مانگ میں اچانک اضافہ ہوا، تاہم مٹن کی فراہمی معمول پر آنے کے باوجود مرغ کی قیمتیں کم نہیں ہو سکیں۔یاد رہے کہ حال ہی میں پنجاب میں مویشیوں پر مبینہ اضافی محصول کے تنازع کے باعث کشمیر میں مٹن کی سپلائی متاثر ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں صارفین نے مرغ کا رخ کیا اور اس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اگرچہ اب مٹن کی سپلائی بحال ہو چکی ہے، لیکن مرغ کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر برقرار ہیں۔شہریوں نے محکمہ خوراک، شہری رسدات و امور صارفین سے مطالبہ کیا ہے کہ مرغ کی قیمتوں پر نظر رکھنے کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے، سرکاری نرخ نامہ جاری کیا جائے اور من مانی قیمتیں وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو مزید مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔










