لیفٹیننٹ گورنر نے بال تل بیس کیمپ میں یاتریوں کیلئے اِنتظامات کا جائزہ لیا

لیفٹیننٹ گورنر نے بال تل بیس کیمپ میں یاتریوں کیلئے اِنتظامات کا جائزہ لیا

شری امرناتھ جی کے عقیدت مندوں کی سہولیت ہماری اوّلین ترجیح ہونی چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر کی اَفسران کو ہدایت

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منو ج سِنہانے جمعہ کے روز بال تل بیس کیمپ کا دورہ کیا اور بابا امرناتھ کے یاتریوںکے لئے کئے گئے اِنتظامات کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے سینئر حکام کے ساتھ بیس کیمپ ہسپتال، آن سپاٹ رجسٹریشن کاؤنٹروں، خیموں اور دیگر سہولیات کا معائینہ کیا اور تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ یاترا کو آسان اور یادگار بنانے کے لئے بین المحکماتی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’شری امرناتھ جی کے شردھالوئوں کا آرام و اطمینان ہماری سب سے بڑی ترجیح ہونا چاہیے۔ رجسٹریشن سے لے کر قیام تک، آمدورفت سے درشن تک،سفر کا ہر قدم بغیر کسی رُکاوٹ کے ہونا چاہیے۔ شری امرناتھ جی شرائین بورڈ اور تمام متعلقہ محکمے اس روحانی سفر کو ہر عقیدت مند کے لئے محفوظ، آسان اور یادگار بنانے کے لیے یکجہتی اور لگن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا نہ صرف شردھالوئوں کی روحانی زندگی کو بدل رہی ہے بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوںکی معاشی زندگی کو بھی بہتر بنا رہی ہے۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے خدمت فراہم کرنے والوں، صفائی کارکنوں، ڈاکٹروں اور لنگر چلانے والے رضاکاروں سے بھی بات چیت کی۔منوج سِنہا نے کہا، ’’ان کی بے لوث خدمت کا جذبہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔ اس برس یاتریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے مقامی تاجروں اور خدمات فراہم کرنے والوں کے لئے نئے معاشی مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ شری امرناتھ جی یاترا اُمیدوں سے بھرپور جموں و کشمیر کی ایک زندہ علامت ہے۔اُنہوں نے کہا،’’یہ یاترا اس سرزمین کی روح میں رچی بسی ہے اور اس کی تقدس اور صفائی کو برقرار رکھنا ہم سب کی اِجتماعی ذِمہ داری ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے حکام کو ہدایت دی کہ یاتریوں سے زائد رقم وصول کرنے یا جعلی رجسٹریشن میں ملوث اَفراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ خواہ وہ خدمت فراہم کرنے والا ہو، سرکاری ملازم ہو یا کسی بھی ادارے سے وابستہ فردہو، کسی کے ساتھ رعایت نہ برتی جائے اور فوری طور پرکیس درج کیا جائے۔اُنہوں نے صفائی ستھرائی کے تمام اِنتظامات کا جامع آڈِٹ کرنے اور چوبیس گھنٹے بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔متعلقہ افسروںنے لیفٹیننٹ گورنر کو سیکورٹی، صفائی، صحت، قیام، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق اِنتظامات کے بارے میں جانکاری دِی۔ انہیں بتایا گیا کہ ایک مؤثر فیڈ بیک میکانزم قائم کیا گیا ہے اور یاتریوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جارہے ہیں۔جائزہ میٹنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ یاترا ٹریک کے ساتھ آر او واٹر تنصیبات کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ یاتریوں کے لئے پینے کے صاف پانی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔منوج سِنہا نے یاتریوں سے بھی بات چیت کی اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا۔ یاتریوں نے اِنتظامیہ، شرائین بورڈ، پولیس، فوج، سیکورٹی فورسز اور دیگر شراکت داروں کی جانب سے کئے گئے بہترین اِنتظامات کی سراہنا کی۔اُنہوںنے کہا، ’’میں بابا برفانی کے تمام شردھالوئوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئیں، بھگوان شیو کے درشن کریں اور اس یاترا کو روحانی مسرت اور خود شناسی کا سفر بنائیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا،’’آج شری امرناتھ جی یاترا کا آٹھواں دن ہے اور اَب تک تقریباً1,70,000 یاتریوں نے پوتر گپھا کا درشن کیا ہے ۔ جموں و کشمیر اِنتظامیہ، پولیس، فوج، سیکورٹی فورسز، شرائین بورڈ اور دیگر تمام شراکت دار مکمل ہم آہنگی کے ساتھ یاترا کو آسان اور خوشگوار بنانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس مرتبہ بڑی تعداد میں یاتری پیشگی رجسٹریشن کے بغیر پہنچے، تاہم تمام ضروری ضوابط پر عمل کرتے ہوئے ان کی رجسٹریشن اور یاترا کو کامیابی سے ممکن بنایا گیا۔ ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام یاتری خوشگوار یادوں کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس لوٹیں۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کے ہرگوشے سے آنے والے عقیدت مند اپنے ساتھ اس یاترا کی خوشگوار یادیں لے کر جائیں گے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ بال تل اور چندن واڑی میں قائم 100 بستروں پر مشتمل ہسپتال مکمل طور پر فعال ہیں جہاں روزانہ اوسطاً 1,300 سے 1,400 او پی ڈِی مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ یہ ہسپتال یاتریوں اور یاترا ڈیوٹی پر تعینات اَفراد کی صحت کے تحفظ میں اہم کردار اَدا کر رہے ہیں۔اُنہوں نے تمام یاتریوں سے اپیل کی کہ وہ اِنتظامیہ اور شرائین بورڈ کی جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ پوری اِنتظامی مشینری آپ کی مدد کے لئے چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہے۔ اگر کسی بھی قسم کی دشواری پیش آئے تو فوری طور پر قریبی کیمپ ڈائریکٹر یا تعینات سیکورٹی اہلکاروں سے رابطہ کریںاور ترجیحی بنیادوں پر ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہا کے ہمراہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر شری امرناتھ جی شرائین بورڈ ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، آئی جی پی کشمیر وی کے بردی، آئی جی پی سیکورٹی سجیت کمار، آئی جی پی ٹریفک جموں و کشمیر ایم سلیمان چودھری، سیکرٹری دیہی ترقی و پنچایتی راج محمد اعجاز، صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، منیجنگ ڈائریکٹر جے کے پی ڈِی سی ایل اور بال تل ایکسس کے نوڈل آفیسر راہل یادو، ڈِی آئی جی سینٹرل کشمیر راجیو اوم پرکاشن،ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل جتن کشور، ایس ایس پی گاندربل سدھانشو دھاما، ڈائریکٹر جنرل رورل سینی ٹیشن انو ملہوترا، شرائن بورڈ، سول اِنتظامیہ، پولیس اور سیکورٹی فورسز کے دیگر سینئر افسران بھی تھے۔