بے روزگاری کشمیری نوجوانوں کی شادیوں میں تاخیر کا بڑا موجب

بے روزگاری کشمیری نوجوانوں کی شادیوں میں تاخیر کا بڑا موجب

معاشی عدم استحکام کے باعث تعلیم یافتہ نوجوان شادی کا فیصلہ مؤخر کرنے پر مجبور

سرینگر// کشمیر میں تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری کے اثرات اب صرف روزگار کے شعبے تک محدود نہیں رہے بلکہ اس نے شادیوں کے رجحان کو بھی نمایاں طور پر متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ معاشی عدم استحکام اور مستقل روزگار کے فقدان کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان شادی کا فیصلہ مؤخر کر رہے ہیں، جبکہ رشتہ طے کرتے وقت سرکاری ملازمت کو اب بھی سب سے اہم معیار تصور کیا جا رہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 2019-20 کے 18.3 فیصد سے کم ہو کر 2023-24 میں 17.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اسی عرصے کے دوران ورکرفورس پارٹیسپیشن میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر اکنامک سروے 2025-26 میں بھی روزگار اور خود روزگاری کو فروغ دینے کے لیے مشن یووا سمیت مختلف اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم زمینی سطح پر نوجوانوں کا کہنا ہے کہ مستقل روزگار کا حصول اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔یو این ایس کے مطابق سرینگر سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ پوسٹ گریجویٹ ، جو کئی برسوں سے مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ مالی استحکام حاصل کیے بغیر شادی نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے مطابق خاندان کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے مستقل آمدنی ضروری ہے، اسی لیے انہوں نے فی الحال شادی مؤخر کر رکھی ہے۔یہ رجحان صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین کے لیے بھی روزگار رشتوں کے انتخاب میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گاندربل کی رہائشی اور پوسٹ گریجویٹ سہیلا انجم کے مطابق آج کل کئی خاندان سرکاری ملازمت کرنے والی لڑکیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک خاندان نے اپنے بیٹے کے لیے دلہن کا انتخاب سرکاری بھرتی کی فہرست سے کیا، جو اس بدلتے سماجی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔بڈگام سے تعلق رکھنے والے امتیاز احمد لون، جن کی بیٹی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے، کہتے ہیں کہ روزگار نہ ملنے کی وجہ سے اس کی شادی سے متعلق معاملات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق والدین اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی امید رکھتے ہیں، لیکن روزگار کی کمی نے یہ امیدیں کمزور کر دی ہیں۔کشمیر کے میٹرمونیل پلیٹ فارم وارتاو کی چیف ایگزیکٹو آفیسر حمیرہ امین نے بتایا کہ رشتہ تلاش کرنے والے خاندانوں کی اولین ترجیحات میں مستقل ملازمت شامل ہوتی ہے، جبکہ سرکاری ملازمت رکھنے والے امیدواروں کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چار سے پانچ برسوں کے دوران پلیٹ فارم پر رجسٹرڈ 1977 سے 1995 کے درمیان پیدا ہونے والے متعدد افراد اب بھی غیر شادی شدہ ہیں، جن میں سے کئی روزگار نہ ملنے یا کیریئر کے استحکام کا انتظار کرنے کے باعث شادی نہیں کر سکے۔یو این ایس کے مطابق ادھر، کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کے سربراہ ڈاکٹر منظور حسین کا کہنا ہے کہ بے روزگاری، عارضی ملازمتوں اور بدلتی سماجی توقعات نے شادی کی عمر اور رجحانات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کے مطابق کشمیری معاشرے میں شادی کو ہمیشہ ایک بڑی معاشی ذمہ داری سمجھا جاتا رہا ہے، اس لیے نوجوان پہلے مالی استحکام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔دوسری جانب محکمہ روزگار کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 28 جون 2025 کو شروع کیے گئے مشن یووا کے تحت جموں و کشمیر میں تقریباً 5.5 لاکھ ممکنہ کاروباری افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اب تک ایک لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً 24 ہزار نوجوانوں کو مختلف نوعیت کی معاونت فراہم کی جا چکی ہے تاکہ وہ خود روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں۔