20 جولائی کے جنتر منتر احتجاج کو سیول سوسائٹی کی حمایت، تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دی جائے گی// عمر عبداللہ
سرینگر// وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے بدھ کے روز مرکز سے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر کو مزید تاخیر کے بغیر ریاستی درجہ بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی کے مختلف طبقات اس مطالبے پر متفق ہیں اور اب ریاستی درجے کی بحالی میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔یو این ایس کے مطابق سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مذہبی رہنماؤں، تاجروں، ریٹائرڈ بیوروکریٹس، ماہرین تعلیم، ٹرانسپورٹروں اور دیگر شعبوں سے وابستہ تقریباً 170 نمائندوں کے اجلاس میں متفقہ طور پر ریاستی درجہ فوری بحال کرنے کی قرارداد منظور کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ 20 جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر نیشنل کانفرنس کی جانب سے مجوزہ احتجاجی مظاہرے کو بھی سول سوسائٹی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ احتجاج میں شرکت کے لیے جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں، خواہ وہ اس وقت اسمبلی میں موجود ہوں یا ماضی میں نمائندگی کر چکی ہوں، کو دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ انڈیا اتحاد سمیت دیگر سیاسی جماعتوں، جن میں عام آدمی پارٹی، شرومنی اکالی دل، بیجو جنتا دل اور بہوجن سماج پارٹی شامل ہیں، کے قائدین کو بھی خطوط ارسال کریں گے۔وزیر اعلیٰ نے سرکاری تقرریوں سے متعلق کہا کہ ڈاکٹروں، اساتذہ اور لیکچررز کی آسامیوں کو پْر کرنے میں اب پہلے کی نسبت زیادہ وقت لگ رہا ہے کیونکہ مرکزی ایجنسیوں کی جانچ کا عمل سخت ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ویریفکیشن اور سی آئی ڈی کلیئرنس میں کافی وقت صرف ہوتا ہے، تاہم تقرری کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں اور جلد ہی امیدوار اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 1,544 سرکاری اسکولوں میں صرف ایک استاد کی موجودگی سے متعلق رپورٹ پرانی یو-ڈائس رپورٹ پر مبنی ہے اور موجودہ صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتی۔یو این ایس کے مطابق عمر عبداللہ نے بتایا کہ انہوں نے چناب خطے اور کٹھوعہ میں خراب موسمی صورتحال کے حوالے سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے بات کی ہے، جنہوں نے فون کر کے زمینی صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔دریائے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بارے میں سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کی جماعت پہلے بھی اس معاہدے کی مخالف رہی ہے، تاہم موجودہ صورتحال پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔شری امرناتھ یاترا سے متعلق انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے یاتریوں کی یومیہ تعداد کی مقررہ حد پر عمل کرنا شری امرناتھ شرائن بورڈ کے لیے لازمی ہے۔ قدرتی برفانی شیو لنگم کے قبل از وقت پگھلنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ خدا کا کام ہے اور اس بارے میں کوئی انسان فیصلہ نہیں کر سکتا۔اسکمز میں عملے کی کمی سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس بارے میں لیفٹیننٹ گورنر سے سوال کیا جانا چاہیے کیونکہ اسکمز کی فائلیں حکومت کے پاس نہیں ہوتیں۔










