چیف سیکرٹری نے ’ٹی بی مُکت بھارت ابھیان‘ کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے ’ٹی بی مُکت بھارت ابھیان‘ کا جائزہ لیا

مہم کے تحت ہائی رسک دیہاتوں کی صدفیصد کوریج کا اہم سنگ میل حاصل

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو کی صدارت میں نیشنل ٹیوبرکولوسس ایلی مینیشن پروگرام (این ٹی اِی پی ) کی ایک جائزہ میٹنگ میں بتایا گیا کہ جموں و کشمیر میں تمام ہائی رسک گائوں ( ایچ آر وی) کی نشاندہی کی گئی ہے اور انہیں ٹی بی کی جامع سکریننگ مہم کے دائرے میں شامل کیا جا چکا ہے۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری محکمہ صحت و طبی تعلیم، مشن ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن، منیجنگ ڈائریکٹر جموں و کشمیر میڈیکل سپلائز کارپوریشن لمیٹڈ ، گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے پرنسپلوں، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر و جموں اور یونین ٹیریٹری کے مختلف طبی اِداروں کے سینئر فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے صحت کارکنوں کی مسلسل خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹی بی کے خلاف مؤثر جنگ کے لئے مستقل نگرانی، بروقت تشخیص اور علاج کا بلا تعطل جاری رہنا ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے تمام اضلاع کو ہدایت دی کہ ہر رجسٹرڈ ٹی بی مریض کے قریبی رابطوں کی مؤثر انداز میں نشاندہی کی جائے تاکہ گھر کے تمام افراد اور دیگر قریبی رابطہ رکھنے والوں کی فوری سکریننگ ہو سکے اور جہاں بھی ٹی بی کی تشخیص ہو، انہیں نیشنل ٹی بی مکت بھارت ابھیان کے تحت فوری علاج سے جوڑا جائے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ بروقت کنٹیکٹ ٹریسنگ اور علاج کا آغاز بیماری کے پھیلاؤ کی زنجیر توڑنے اور ٹی بی کے خاتمے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے اہم ہے۔اُنہوں نے ٹی بی مکت بھارت ایپ کے ساتھ مربوط ’’خوشی چیٹ بوٹ‘‘ کے مؤثر اِستعمال پر بھی خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم ٹی بی کے مریضوں کے لئے ایک اہم ڈیجیٹل معاون ثابت ہو رہا ہے جہاں انہیں مستند معلومات، علاج سے متعلق رہنمائی اور مشاورت آسانی سے دستیاب ہوتی ہے۔اَتل ڈولو نے کہا کہ مقامی زبانوں میں معلومات کی فراہمی سے عوامی بیداری میں اضافہ، غلط فہمیوں کا ازالہ اور مریضوں و ان کے اہل خانہ میں علاج کی پابندی کو فروغ ملتا ہے جس سے ٹی بی کے خلاف مہم میں عوامی شمولیت مزید مضبوط ہوتی ہے۔ اُنہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ ایپلیکیشن پر مریضوں کی رجسٹریشن زیادہ سے زیادہ کریں اور یقینی بنائیں کہ اسے تمام اضلاع میں زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔جائزہ میٹنگ میں’ ٹی بی مکت بھارت ابھیان‘ کے دوسرے مرحلے کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران متعدد اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے جو محکمہ صحت و طبی تعلیم، ضلعی اِنتظامیہ اور فیلڈ سطح پر تعینات صحت کارکنوں کی مربوط اور مؤثر کوششوں کا نتیجہ ہے۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ مہم کے تحت ہائی رسک دیہاتوں میں رہنے والے 6.85 لاکھ اَفراد کی سکریننگ مکمل کی جا چکی ہے جو گزشتہ تین ہفتوں کے دوران عوامی رسائی میں نمایاں اضافے کی عکاس ہے۔ فیلڈ سطح پر سرگرمیوں میں تیزی آنے سے بالخصوص کمزور اور پسماندہ طبقات میں ٹی بی کے مریضوں کی بروقت نشاندہی میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے۔دوران میٹنگ کمشنر سیکرٹری محکمہ صحت و طبی تعلیم ایم راجو نے بتایا کہ مہم کے دوران 1,518 ہائی رسک دیہاتوں میں 1,525 نکشے شیویرکامیابی سے منعقد کئے گئے جس کے نتیجے میں مہم کے تحت جغرافیائی اعتبار سے صد فیصد کوریج کا اہم سنگ میل حاصل ہوا۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ فیلڈ سطح پر تشخیصی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لئے ریاسی، ڈوڈہ، راجوری، رام بن، بارہمولہ، سری نگر اور کپواڑہ اضلاع میں 11 اضافی ہینڈ ہیلڈ ڈیجیٹل ایکسرے مشینیں سینٹرل ٹی بی ڈویژن اور کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) اقدامات کے تعاون سے فراہم کی گئی ہیںجس سے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں تشخیصی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ڈیجیٹل چیسٹ ایکسرے سکریننگ کے اِستعمال میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ چیسٹ ایکسرے کروانے والے حساس افراد کی تعداد 1.72 لاکھ سے بڑھ کر 3.15 لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ مجموعی ایکسرے شرح 70 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 79 فیصد تک پہنچ گئی۔ بارہمولہ، کپواڑہ، سری نگر اور بڈگام سمیت کئی اضلاع نے ایکسرے کوریج میں غیر معمولی اعلیٰ ایکسرے کوریج حاصل کی ہے جو قومی سکریننگ رہنما اصولوں پر مؤثر عمل درآمد کی عکاس ہے۔میٹنگ میں مالیکیولر تشخیص کے شعبے میں بھی حوصلہ افزا پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ مجموعی طور پر 95,810 مائیکرو بائیولوجیکل ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 91 فیصد ریپڈ مالیکیولر ٹیسٹ (این اے اے ٹی) کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی ہیں جو روایتی مائیکروسکوپی پر انحصار کم کرتے ہوئے جلد اور درست تشخیص کو یقینی بناتے ہیں۔میٹنگ میں جانکاری دی گئی ’ ٹی بی مکت بھارت ابھیان‘ کے تحت ٹی بی مریضوں کے لئے غذائی معاونت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پوشن کٹس کی تقسیم 54.5 فیصد سے بڑھ کر 86 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ تقریباً 3,930 مریضوں کو غذائی امداد فراہم کی گئی۔ کئی اضلاع میں رضامند مستحقین کی تقریباً مکمل کوریج حاصل کی گئی ہے جو مریضوں کی جامع نگہداشت کے لئے پروگرام کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ جموں و کشمیر ٹی بی کی نگرانی اور تشخیص کے شعبے میں مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ رواں برس کے پہلے چھ ماہ کے دوران یوٹی بھر میں 3.19 لاکھ سے زائد مشتبہ ٹی بی تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے جو فی لاکھ آبادی 3,000 ٹیسٹ کے قومی معیار سے کہیں زیادہ ہیںجبکہ تمام اضلاع اپنے سالانہ تشخیصی اہداف کے حصول کی راہ پر گامزن ہیں۔میٹنگ میں پیش کی گئی ایک نہایت حوصلہ افزا پیش رفت یہ بھی تھی کہ ٹی بی سے متعلق اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اگرچہ جنوری تا جون 2026 ء کے دوران نکشے پورٹل پر 88 اموات درج کی گئیں، تاہم تفصیلی ٹی بی ڈیتھ آڈٹ کے بعد کسی بھی موت کی براہِ راست وجہ ٹی بی کی تصدیق نہیں ہوئی جو بروقت تشخیص، علاج پر عمل درآمد اور مریضوں کی بہترنگہداشت کی عکاسی کرتا ہے۔چیف سیکرٹری اتل ڈولو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر حکومت مربوط حکمت عملی، عوامی شمولیت، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور معیاری طبی خدمات کی بروقت فراہمی کے ذریعے ٹی بی مُکت بھارت کے قومی ویژن کو حاصل کرنے کے لئے پوری طرح پُرعزم ہے۔