علیحدگی پسندوں کی مبینہ ستائش ناقابل قبول، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے
سرینگر// جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل شرما نے ہفتہ کے روز سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر تقسیم کی گئی ایک متنازع کتاب پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی منظوری، اشاعت اور تقسیم کے عمل کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں۔یو این ایس کے مطابق جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیل شرما نے الزام لگایا کہ ’پرسلٹیس اینڈ لیجنڈس آف جموں کشمیر‘نامی کتاب، جسے پیراڈائز پبلشرز نے شائع کیا ہے، میں علیحدگی پسندوں، دہشت گردوں اور پتھراؤ میں ملوث افراد کی مبینہ طور پر ستائش کی گئی ہے جبکہ بھارت کے بارے میں منفی تاثر پیش کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کتاب کی نہ تو کوئی تعلیمی اہمیت ہے اور نہ ہی تاریخی اعتبار سے اسے مستند قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کا مواد نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ کتاب کو محکمہ تعلیم کی تشکیل کردہ ایک کمیٹی نے منظوری دی، جس کے بعد اسے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں فراہم کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کتاب پر فوری پابندی عائد کی جائے اور اس کی منظوری، اشاعت اور تقسیم میں شامل تمام ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے اس معاملے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑے تو وزارتی سطح تک ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے وزیر تعلیم کو فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور الزام لگایا کہ محکمہ تعلیم نے اس معاملے میں سنگین غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کے دوران بھی اسی نوعیت کی تقریباً 25 کتابیں واپس لی گئی تھیں یا ان پر پابندی عائد کی گئی تھی، لہٰذا موجودہ حکومت کو بھی اسی طرز پر کارروائی کرنی چاہیے۔یو این ایس کے مطابق صحافیوں کے سوالات کے جواب میں سنیل شرما نے الزام لگایا کہ مذکورہ کتاب میں دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں ملوث یا سزا یافتہ بعض افراد کو ’شہید‘ قرار دیا گیا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔انہوں نے مصنفین، ناشرین، تقسیم کاروں اور کتاب کی منظوری دینے والی کمیٹی کے ارکان کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور متعلقہ تحقیقاتی ایجنسیاں فوری طور پر معاملے کی جانچ کریں اور قصوروار پائے جانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔یو این ایس کے مطابق اس دوران جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر شامل کی گئی متنازع کتاب کے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور کتاب پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جے کے پی سی سی کے چیف ترجمان رویندر شرما نے ہفتہ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس کتاب، جس میں مبینہ طور پر بھارتی آئین کی مخالفت کرنے والے علیحدگی پسند عناصر کی ستائش کی گئی ہے، پر فوری پابندی عائد کی جانی چاہیے۔بعد ازاں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے رویندر شرما نے کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ “سمگر شکشا ابھیان” کے تحت محکمہ اسکولی تعلیم نے اس کتاب کو اسکولوں کی لائبریریوں میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں ایسے افراد، جنہوں نے مبینہ طور پر ملک کے خلاف جنگ چھیڑی، کو ’شہیدِ اعظم‘ قرار دیا گیا ہے، جو نہایت متنازع اور قابل اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس کی سخت مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس بات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں کہ اس کتاب کی سفارش کس نے کی اور اسے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں تک کیسے پہنچایا گیا۔رویندر شرما نے کہا کہ متنازع، ملک مخالف اور علیحدگی پسند عناصر کی کسی بھی نوعیت کی مبینہ ستائش ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اداروں کے ذریعے اس کتاب کو اسکولی لائبریریوں میں شامل کیے جانے کے پورے معاملے کی تحقیقات کی جائیں اور قصوروار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔










