بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے

بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے

پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے، تعلقات بہتر بنانا وقت کی ضرورت ہے//وزیراعلی ٰعمر عبداللہ

سرینگر//جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کیے جائیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے بات چیت ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔یو این ایس کے مطابق سری نگر میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کوئی نیا مسئلہ نہیں بلکہ گزشتہ 30 سے 40 برس سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال پہلگام حملے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوئے، تاہم اب ایک مشترکہ خط کے ذریعے وزیر اعظم سے اپیل کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے، جس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ایک سینئر رہنما نے بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی اور مذاکرات کی حمایت کی تھی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جب آر ایس ایس کے رہنما یہ بات کہتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں کرتا، لیکن جب جموں و کشمیر کے رہنما یہی مؤقف اختیار کرتے ہیں تو اسے تنازعہ بنا دیا جاتا ہے۔وزیراعلیٰ نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے معروف قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’دوست بدلے جا سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں‘‘، اس لیے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری ناگزیر ہے۔ادھر بھارت اور پاکستان کی 100 سے زائد ممتاز شخصیات نے بھی دونوں ممالک کی قیادت سے اپیل کی ہے کہ باہمی مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے اور معمول کے تعلقات بحال کیے جائیں۔ اس مشترکہ خط کو او۔ پی۔ شاہ، چیئرمین سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس، کی نگرانی میں مرتب کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، سابق’ را ‘سربراہ اے۔ ایس۔ دْلت، راجیہ سبھا رکن منوج جھا، سابق سفارت کار اشرف جہاں گیر قاضی، سابق مرکزی وزیر منی شنکر ایئر اور پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سمیت متعدد ریٹائرڈ سفارت کاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے دستخط شامل ہیں۔مشترکہ خط میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف پر زور دیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن، معمول کے حالات، باہمی اعتماد، مذاکرات اور علاقائی تعاون کی بحالی کے لیے سنجیدہ اور مسلسل اقدامات کیے جائیں۔