وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے شوپیان کی ترقیاتی پیش رفت کا جائزہ لیااور 76 کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کو ضلع کے لوگوں کیلئے وقف کیا

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے شوپیان کی ترقیاتی پیش رفت کا جائزہ لیااور 76 کروڑ روپے کے ترقیاتی پروجیکٹوں کو ضلع کے لوگوں کیلئے وقف کیا

ضلع کی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی ،13 اہم ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیادرکھا اور اِفتتاح کیا

ٍٍشوپیان//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ضلع شوپیان کے ترقیاتی کاموں، اہم سرکاری سکیموں کی عمل آوری اور عوامی خدمات کی مجموعی فراہمی کا جائزہ لینے کے لئے ایک جامع ضلعی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی ۔ اس دوران اُنہوں نے ضلع بھر میں متوازن اور مساوی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے ضلع کے لوگوں کے لئے 76 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی پروجیکٹوں کو وقف کیا ،کئی بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور کسانوں، باغبانوں، پھلوں کے کاشتکاروں اور عوامی وفود سے ملاقات کر کے اُن کے مسائل سُنے۔جائزہ میٹنگ میں نائب وزیر اعلیٰ سریندرکمار چودھری، وزیربرائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ ایتو، وزیر برائے زراعت جاوید احمد ڈار، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ممبران اسمبلی شبیر احمد کلے (شوپیان) اور شوکت حسین گنائی (زینہ پورہ) نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا،ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیان، مختلف محکموں کے سربراہان، ضلعی اَفسران اور دیگر سینئر اَفسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔میٹنگ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو تیز کرنے، ضروری عوامی خدمات کو مزید مضبوط بنانے اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ ان کے ثمرات بغیر کسی تاخیر کے لوگوں تک پہنچ سکیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیاں نے ضلع کے پروفائل، مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت حاصل کی گئی پیش رفت، مختلف محکموں کی طبعی و مالی صورتحال اور جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کی عمل آوری سے متعلق تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔وزیراعلیٰ نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر اور ان کی پوری ٹیم کی ضلع میں ترقیاتی پروگراموں کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں کو سراہا۔اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ شوپیان رقبے کے لحاظ سے ایک چھوٹا ضلع ہے، تاہم جغرافیائی اور سٹریٹجک اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اسے منفرد ترقیاتی چیلنجز درپیش ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ شوپیان کی شناخت عالمی شہرت یافتہ سیب کی صنعت، دِلکش قدرتی مناظر اور تاریخی مغل روڈ سے جڑی ہوئی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت ان اثاثوں کو مزید مستحکم بنانے کے لئے ہدفی سرمایہ کاری اور مسلسل ترقیاتی اقدامات کے لئے پُرعزم ہے۔وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر کو درپیش مالی مشکلات کا اعتراف کیا لیکن یقین دلایا کہ یہ مشکلات ضلع کی ترقی میں رُکاوٹ نہیں بنیں گی۔اُنہوں نے کہا،’’مالی وسائل کی محدودیت کے باوجود شوپیان یا ضلع کی کسی بھی اسمبلی حلقے کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔‘‘اُنہوں نے منتخب نمائندوں کو یقین دِلایا کہ میٹنگ میں اُٹھائے گئے تمام مسائل اور مطالبات کو نوٹ کیا گیا ہے اور انہیں مقررہ مدت کے اندر حل کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اَفسران کو ہدایت دی کہ جہاں کہیں بھی کمیاں پائی جائیں انہیں فوری طور پر دور کیا جائے اور ممبران اسمبلی کی طرف سے پیش کردہ ترقیاتی مطالبات پر تیزی سے عمل درآمد کیا جائے۔اُنہوں نے خصوصی ریاستی اِمدادی سکیم برائے سرمایہ کاری ( ایس اے ایس سی آئی) کے تحت منظور شدہ منصوبوں کی مؤثر عمل آوری پر زور دیتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ہدایت دی کہ وہ بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے ان کاموں کی ذاتی طور پر نگرانی کریں۔اُنہوں نے کہا کہ اس سکیم کے تحت سخت ٹائم لائنز مقرر ہیں۔ اس لئے منصوبوں کی مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔وزیراعلیٰ نے جائزہ میٹنگ میں مجموعی ترقیاتی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ممبران اسمبلی کی جانب سے دی گئی تعمیری تجاویز کو سراہا اور یقین دِلایا کہ لوگوںکے تمام جائز مسائل کو ممکنہ حد تک حل کیا جائے گا۔اُنہوں نے میٹنگ میں منتخب نمائندوں کی فعال شرکت پر شکریہ اَدا کیا اور عوامی خدمات کی فراہمی کے لئے ضلعی اِنتظامیہ کی کوششوںکی بھی ستائش کی۔اِس سے قبل وزیر اعلیٰ نے مجموعی طور پر 76.45 کروڑ روپے لاگت کے 13 ترقیاتی منصوبوں کا اِفتتاح کیا اور ان کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ منصوبے سڑکوں، پُلوں، پینے کے پانی، شہری ترقی، دیہی بنیادی ڈھانچے اور باغبانی کے شعبوں سے متعلق ہیں۔اِفتتاح کئے گئے منصوبوں میں شیرمال۔واتھو۔مٹی پورہ سڑک کی اَپ گریڈیشن، شاداب کیریوا، ڈوم وانی، آڈیجن گڈی پورہ اور ریبن کھوج پورہ میں واٹر سپلائی سکیمیں، گاگرین میں پنچایتی راج اداروں کے ارکان کے لئے رہائشی عمارت، ٹرینز۔شیخ پورہ پُل اور صفا نگری۔لامین درباغ واچی سڑک کی اَپ گریڈیشن شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ نے ڈوم پورہ ملٹی سیل کاز وے، شوپیان شہر کی خوبصورتی کے لئے نالیوں، گلیوں اور سٹریٹ لائٹس کی بہتری، میگا فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل منڈی اگلر میں میکنیکل ونڈرو کمپوسٹنگ یونٹ اور اللوپورہ میں پاسچرائزڈ کمپوسٹ سازی یونٹ کے منصوبوں کا اِی۔سنگ بنیاد رکھا۔اُنہوں نے اگلر میں میگا فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل منڈی میں نیلامی پلیٹ فارم کی تعمیر کا سنگ بنیاد بھی رکھا جس کا مقصد فصل کی کٹائی کے بعد کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور باغبانوں کے لئے بہتر مارکیٹنگ سہولیات فراہم کرنا ہے۔وزیراعلیٰ نے اگلر میں فروٹ منڈی ایسوسی ایشن کے نمائندوں، کسان تنظیموں اور باغبانی سے وابستہ اَفراد کے ساتھ باتی چیت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کسانوں اور باغبانوں کو درپیش مشکلات کم کرنے کے لئے پوری طرح پُرعزم ہے۔اُنہوں نے کہا کہ زراعت اور اس سے منسلک شعبے جموں و کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور یقین دِلایا کہ حکومت بہتر بنیادی ڈھانچے، منڈیوں تک رسائی اور کسان دوست اقدامات کے ذریعے ان شعبوں کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے نمائندوں کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل کا جواب دیتے ہوئے یقین دِلایا کہ کنٹرولڈ ایٹماسفیئر (سی اے) سٹوریج کی سہولیات، دکانوں کی دستیابی، مارکیٹنگ کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا۔اُنہوں نے کاشتکاروں کو مزید یقین دِلایا کہ حکومت جعلی کیڑے مار ادویات کے خطرے سے نمٹنے کے لئے مؤثر اقدامات ٹھوس اقدامات کرے گی اور کاشتکاروں اور پھلوں کے کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لئے موسم پر مبنی فصلوں کی انشورنس، ژالہ باری سے بچاؤ کے جال اور دیگر خطرات کو کم کرنے کے لئے مؤثر حل متعارف کرنے کے لئے کام کرے گی۔اِس سے قبل فروٹ منڈی ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے باغبانی شعبے کو درپیش مختلف مسائل اُجاگر کرتے ہوئے مارکیٹنگ سہولیات، ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت سے مداخلت کی درخواست کی۔بعد میں وزیر اعلیٰ نے ضلع شوپیان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عوامی وفود سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں مقامی مسائل، ترقیاتی مطالبات اور عوامی شکایات سے آگاہ کیا۔وزیر اعلیٰ نے وفود کو بغور سُنا اوریقین دِلایا کہ تمام جائز معاملات کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لے کر ان کا مناسب حل نکالا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے مختلف سرکاری محکموں اور مقامی صنعت کاروں کی جانب سے قائم کردہ نمائشی سٹالوں کا بھی دورہ کیا اور اُنہوں نے وہاںمقامی سطح پر تیار کردہ زرعی، باغبانی اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کا معائینہ کیا۔