آؤٹ سورسنگ بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات مسترد

نظام سابقہ حکومت کی پالیسی قرار،پی ڈی پی دور میں متعارف آؤٹ سورسنگ نظام ہی جاری ہے//حکومت

سرینگر// جموں و کشمیر میں آؤٹ سورسنگ کے ذریعے بھرتیوں سے متعلق الزامات کو مسترد کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ نظام میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا’بیک ڈور انٹری‘ نہیں ہو رہی، اور یہ پورا فریم ورک سابقہ پی ڈی پی-بی جے پی حکومت کے دور میں متعارف کرایا گیا تھا۔یو این ایس کے مطابق چیف منسٹر کے مشیر ناصر اسلم وانی نے سرینگر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آؤٹ سورسنگ کا موجودہ نظام ان کی حکومت نے شروع نہیں کیا بلکہ یہ 2015 سے 2018 کے درمیان اْس وقت کی حکومت کا تیار کردہ نظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کو یہ نظام وراثت میں ملا ہے، بالکل اسی طرح جیسے دیگر بڑے انتظامی و سیاسی مسائل سابقہ حکومتوں سے منتقل ہوئے۔انہوں نے اپوزیشن جماعت پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے ایک بھی غیر شفاف یا بیک ڈور تقرری کا ثبوت پیش کیا جائے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت شفافیت اور میرٹ پر یقین رکھتی ہے اور اس وقت تقریباً 40 ہزار آسامیوں کو میرٹ کی بنیاد پر بھرنے کا عمل جاری ہے، جسے جلد مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ناصر اسلم وانی نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پبلک سروس میں نہ تو امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں اور نہ ہی سلیکشن لسٹس کی منسوخی جیسے مسائل، جو ماضی میں معمول تھے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے اور تمام تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر ہو رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آؤٹ سورسنگ کے تحت بھرتی کیے گئے افراد مستقل سرکاری آسامیوں کا متبادل نہیں بلکہ اضافی عارضی انتظام کے طور پر رکھے جاتے ہیں تاکہ فوری ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل پہلے سے منظور شدہ اسامیوں کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیر سکینہ ایتو نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آؤٹ سورسنگ کا مقصد فوری انتظامی ضروریات پوری کرنا ہے، خصوصاً صحت جیسے شعبوں میں جہاں فوری سروسز کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہسپتال میں اضافی مشینری نصب ہونے کے بعد فوری طور پر ٹیکنیکل اسٹاف کی ضرورت ہوتی ہے، جسے مستقل بھرتی کے مکمل عمل تک آؤٹ سورسنگ کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آؤٹ سورسنگ ایجنسیوں کا انتخاب گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس کے ذریعے شفاف ٹینڈرنگ کے عمل سے کیا جاتا ہے، جبکہ معاہدوں کی توسیع بھی پہلے سے طے شدہ پالیسی کے تحت کی جاتی ہے۔حکومتی مشیروں نے اپوزیشن کے الزامات کو سیاسی بیان بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن جماعتوں نے یہ نظام متعارف کرایا، آج وہی اس پر اعتراض کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ پورا نظام سابقہ حکومت کی پالیسی کا تسلسل ہے اور موجودہ حکومت صرف اسے نافذ کر رہی ہے۔حکومت نے زور دیا کہ تمام تقرریوں اور بھرتی کے عمل میں شفافیت، میرٹ اور قواعد کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔