مغربی بنگال بجٹ ۔ اقلیتوں کے فنڈز میں 3548 کروڑ روپئے کی کٹوتی

مغربی بنگال بجٹ ۔ اقلیتوں کے فنڈز میں 3548 کروڑ روپئے کی کٹوتی

کولکاتا/ایجنسیز// بنگال کی بی جے پی حکومت نے اپنے پہلے مکمل بجٹ میں اقلیتی بہبود اور مدرسہ تعلیم کے شعبے کیلئے مختص فنڈز میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے ۔ مالی سال 2026-27 کیلئے اس محکمہ کو 2,165۔42 کروڑ روپے دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جبکہ فروری میں سابق ٹی ایم سی حکومت نے اپنے عبوری بجٹ میں اسی شعبے کیلئے 5,713 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔اس طرح اقلیتی بہبود اور مدارس کے بجٹ میں 3,548 کروڑ روپے کی کٹوتی کی گئی ہے، جو گزشتہ مختص رقم کے مقابلے میں آدھے سے زیادہ کمی سمجھی جا رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً 614 سرکاری طور پر مسلمہ مدارس موجود ہیں، جہاں لگ بھگ ساڑھے چار لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔دوسری جانب وزیر خزانہ سوپن داس گپتا نے اسمبلی میں ریاست کا سالانہ بجٹ پیش کرکے کہا کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے ساتھ فلاحی اسکیموں کو جاری رکھے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ریاستی سرکاری ملازمین کے مہنگائی الاؤنس (ڈی اے) میں 20 فیصد اضافہ کیا جائے گا، جس کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔ اس اضافہ کے بعد مجموعی ڈی اے 38 فیصد تک پہنچ جائے گا۔بجٹ میں روزگار کے شعبے کیلئے بھی اعلانات کیے گئے ہیں ۔ حکومت نے ایک لاکھ سرکاری جائیدادوں کو مرحلہ وار پُر کرنے کا وعدہ کیا ہے، جن میں ایک تہائی عہدے خواتین کیلئے مخصوص ہوں گے۔ اس کے علاوہ تمام موجودہ سماجی بہبود کی اسکیموں کو جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے اناپورنا یوجنا کیلئے 36 ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا اعلان کیا، جبکہ خواتین کیلئے مفت بس سفر کی سہولت برقرار رکھنے کی خاطر 550 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس مقصد کیلئے جلد ہی پنک کارڈ نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔