مرکزی وزیرمملکت اَجے تمتا نے جموںوکشمیر میں ہائی وے پروجیکٹوں کا جائزہ لیا

جموں//وزیر مملکت برائے روڈ ،ٹرانسپورٹ و ہائی ویز اَجے تمتا نے اتوار کے روز جموں و کشمیر کے دو روزہ دورے مکمل کیا جس میں اُنہوں نے اہم قومی شاہر اہ پروجیکٹوں کا تفصیلی معائینہ کیا اور گزشتہ روز کنونشن سینٹر جموں میں ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔دورے کے دوران وزیر مملکت نے قومی شاہراہ۔44 کے سری نگر۔ جموں سیکشن کا سفر کیا اور قاضی گنڈ۔بانہال اور چنانی ۔ ناشری ٹنلوں ، لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ رام بن۔ بانہال حصے نیز نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف اِنڈیا (این ایچ اے آئی) کے زیرِ تعمیر سری نگر اور جموں رنگ روڈ پروجیکٹوں کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے چنانی۔سدھ مہادیو سڑک اور این ایچ آئی ڈِی سی ایل این ایچ آئی ڈِی سی ایل) کے تحت مجوزہ سدھ مہادیو۔درنگا ٹنل کے مجوزہ راستے کا بھی جائزہ لیا۔فیلڈ معائینے کے دوران مرکزی وزیر مملکت کے ہمراہ این ایچ اے آئی، این ایچ آئی ڈِی سی ایل، بارڈر روڈز آرگنائزیشن (بی آر او)، محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِٰ) اور وزارتِ روڈ ز ٹرانسپورٹ و ہائی ویز (ایم او آر ٹی ایچ) کے سینئر افسران بھی تھے۔جائزہ میٹنگ میںممبران پارلیمان جگل کشور شرما اور ست پال شرما، ممبران قانون ساز اسمبلی چندر پرکاش گنگا، یدھویر سیٹھی، وکرم رندھاوا، اروند گپتا اور سریندر بھگت کے علاوہ تمام ہائی ویے ایجنسیوں کے سینئرحکام نے شرکت کی۔حکام نے وزیر مملکت کو ایم او آر ٹی ایچ کی مالی معاونت سے جاری اور آئندہ منصوبوں کی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی جانکاری دِی جن میں یونین ٹیریٹری میں این ایچ اے آئی، این ایچ آئی ڈِی سی ایل، بی آر او اور محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِی) کے تحت چلائے جانے والے منصوبے شامل ہیں۔وزیر مملکت نے 2014 کے بعد سے آنے والی تبدیلی کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں سڑک اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانے میں ’’ غیر معمولی تبدیلی ‘‘ آئی ہے ۔ 2014 سے پہلے اس خطے میں شاہراہ کی ترقی محدود تھی اور دشوار گزار خطہ، بار بار لینڈ سلائیڈنگ اور ہر موسم میں ناقص رابطہ جیسے مسائل موجود تھے۔ تب سے تقریباً 1.35 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے کام شروع کئے گئے ہیں۔ اِس میں سے 20,000 کروڑروپے مالیت کے 700 کلومیٹر مکمل ہو چکے ہیں، 50,000 کروڑ روپے مالیت کے 2,300 کلومیٹر زیر تعمیر ہیں اور 65,000 کروڑ روپے مالیت کے مزید 707 کلومیٹر کے لئے ڈِی پی آر تیار کی جا رہی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ٹنلوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ 2014 سے پہلے جموں و کشمیر میں صرف پانچ ٹنلیں تھیں جبکہ آج جموں۔سری نگر کوریڈورمیں 25 ٹنلیں موجود ہیںجن میں سے 20 مکمل ہو چکی ہیں اور پانچ زیر تعمیر ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ زوجیلہ ٹنل، ڈگڈول۔خونی نالہ، سنگل، بھمبر گلی، سنتھن پاس، سدھ مہادیو، سادھنا پاس، پیر کی گلی اور متوازی چنانی ۔ناشری راستے جیسے سٹریٹجک منصوبے قابل اعتماد سال بھر رابطہ یقینی بنائیں گے۔میٹنگ کو بتایا گیا کہ 16 ہزار کروڑ روپے مالیت کی جموں۔اودھمپور۔سری نگر فور لین شاہراہ 95 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد جموں سے سری نگر کا سفر 9 گھنٹوں سے کم ہو کر تقریباً 4 گھنٹے رہ جائے گا جبکہ فاصلہ تقریباً 70 کلومیٹر کم ہو جائے گا۔ ٹنلوں، وایاڈکٹس، بائی پاسز اور لینڈ سلائیڈنگ سے تحفظ کے اقدامات کے باعث این ایچ۔44 ایک محفوظ اور ہر موسم میں قابلِ استعمال شاہراہ بن رہی ہے۔ مزید مضبوطی کے لئے اودھمپور اور بانہال کے درمیان 15 حساس مقامات پر 230 کروڑ روپے کے کام جاری ہیںجبکہ بانہال، رام بن، اشاجی پورہ، سیری اور مکرکوٹ میں 600 کروڑ روپے لاگت کے بائی پاس منصوبے مکمل کئے جا چکے ہیں۔پچاس ہزار کروڑ روپے لاگت کی چار تیز رفتار رکوریڈور زیر تعمیر ہیں جن میں جموں۔اودھمپور۔سری نگر، جموں۔چنانی ۔ اننت ناگ ۔ بارہمولہ ۔اوڑی اور جموں ۔ اکھنور کوریڈور شامل ہیں۔ یہ منصوبے وادیٔ کشمیر، وادیٔ چناب، راجوری۔پونچھ، شمالی کشمیر اور سرحدی علاقوں تک رسائی بہتر بنائیں گے جس سے سیاحت، تجارت اور دفاعی روانی کو فروغ ملے گا۔اکتالیس ہزار کروڑ روپے لاگت کی 670 کلومیٹر طویل دہلی۔امرتسر۔کٹرہ گرین فیلڈ ایکسپریس وے بھی یاتریوں رابطوں کو مضبوط کرے گی۔ جموں و کشمیر میں اس ایکسپریس وے کے 143 کلومیٹر حصے پر 11,500 کروڑ روپے لاگت آئے گی اور اسے اگست 2027 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے دہلی اور کٹرہ کے درمیان فاصلہ 58 کلومیٹر کم ہو جائے گا۔میٹنگ میں مزید بتایا گیا کہ شہری ٹریفک کے مسائل کے حل کے لئے رنگ روڈ منصوبوں پر کام جاری ہے۔ 7,200 کروڑ روپے لاگت کی 104 کلومیٹر طویل سری نگر رنگ روڈ شہر کے اندر سے گزرنے والی ٹریفک کو متبادل راستہ فراہم کرے گی اور بارہمولہ، کپواڑہ، بانڈی پورہ، گریز، کرگل اور لیہہ کے رابطوں کو بہتر بنائے گی۔ 58 کلومیٹر طویل جموں رنگ روڈ کا 53 کلومیٹر حصہ پہلے ہی فعال ہو چکا ہے جبکہ 33 کلومیٹر مشرقی جموں رنگ روڈ کے لئے ڈِی پی آر کا کام جاری ہے۔اَگلے مرحلے میں 65 ہزار کروڑ روپے لاگت کے 707 کلومیٹر ہائی ویز منصوبوں کے ڈی پی آر شامل ہیں۔ اہم منصوبوں میں 125 کلومیٹر طویل کٹرہ۔سری نگر ہائی سپیڈ کوریڈور، رفیع آباد۔کپواڑہ۔ٹنگڈارشاہراہ بمعہ سادھنا ٹنل، سورن کوٹ۔بفلیاز۔دودھ پتھری۔ماگام کوریڈور بمعہ پیر کی گلی ٹنل، سانبہ۔مانسر۔اودھمپور فور لین منصوبہ، سری نگر۔سونہ مرگ۔گمری کوریڈور اور سری نگر۔قاضی گنڈ شاہراہ پر نئی سروس سڑکیں اور انڈر پاسز شامل ہیں۔میٹنگ میں جانکاری دِی گئی کہ میں بتایا گیا کہ پلگرمیج اور سیاحتی بنیادی ڈھانچے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ امرناتھ یاترا سے متعلق 60 کلومیٹر سڑک منصوبوں کے لئے 3,500 کروڑ روپے لاگت کی ڈِی پی آرتیار کی جا رہی ہیں۔ 880 کروڑ روپے لاگت کا کٹرہ انٹرموڈل سٹیشن شری ماتا ویشنو دیوی کے یاتریوں کے لئے ریل، سڑک اور ہیلی کاپٹر خدمات کو مربوط کرے گا۔ مزید برآں، تیس ہزار کروڑ روپے مالیت کے 54 روپ وے منصوبوں کی تجاویز موصول ہوئی ہیںجن میں سے 16 ہزار کروڑ روپے لاگت کے آٹھ منصوبے پہلے مرحلے میں شروع کئے جائیں گے۔ ان میں شری امرناتھ جی گپھا، شنکرآچاریہ مندر، تھاجیواس گلیشیئر، بھدرواہ، سناسر اور دودھ پتھری شامل ہیں۔مرکزی وزیر مملکت نے تمام ایجنسیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے حکام کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر منصوبے مکمل کریں اور معیار، حفاظت اور عوامی سہولیت کو یقینی بنائیں۔